کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 74
تنبیہ: اگرحائضہ یا نفاس والی عورت غروب آفتاب سے پہلے پاک ہوجائے تواسے اس دن کی ظہر اور عصر کی نمازیں ادا کرنا ہوں گی۔اگرصبح صادق سے پہلے پہلے پاک ہوجائے تو اس رات کی مغرب اورعشاء کی نماز ادا کرنا اس پر لازم ہے کیونکہ دوسری نماز کاوقت حالت عذر میں پہلی نماز کا وقت بھی ہوتا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:" جمہور علماء میں سے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ ،شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور احمد رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہے کہ اگر حائضہ عورت دن کے آخری حصہ میں پاک ہوجائے تو وہ ظہر اور عصر،دونوں نمازیں ادا کرےگی،اگررات کے آخری حصے میں پاک ہوتو مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کرے گی۔ سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ ،سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی منقول ہے کیونکہ حالت عذر میں یہ وقت دونوں نمازوں کے درمیان مشترک ہے۔جب وہ دن کے آخری حصے میں پاک ہوتو ظہر کا وقت باقی ہے۔لہذا عصر سے پہلے ظہر ادا کرے۔اسی طرح اگر رات کے آخری حصے میں پاک ہوتو حالت عذر میں مغرب کا وقت باقی ہے تو اسے عشاء سےپہلے ادا کرے۔"[1] (7)۔اگر کسی نماز کا وقت شروع ہوگیا لیکن اس نے نماز ادا نہ کی کہ وہ حیض یانفاس والی ہوگئی تو راجح قول یہی ہے کہ اس پر اس نماز کی قضا نہیں،چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اس مسئلے سے متعلق لکھتے ہیں: "امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور مالک رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک دلائل کے لحاظ سے قوی ہے کہ ایسی صورت میں عورت پر کچھ لازم نہیں کیونکہ قضا کا وجوب کسی امر جدید سے ہوتا ہے جو یہاں نہیں ہے۔باقی رہا اس کانماز میں تاخیر کرناتو اس میں جوازتھا،لہذا وہ کوتاہی کی مرتکب نہیں ہوئی۔ سویا ہوا بھول جانے والا بھی کوتاہی کے مرتکب نہیں ہیں،اگرچہ نماز کا وقت گزر جائے کیونکہ سوجانے والا جب سوکراٹھے یا بھولنے والے کو جب یاد آجائے تو ان کا وہی وقت نماز ہے۔"[2] استحاضہ اور اس کے احکام استحاضہ ایسا جاری خون ہوتاہے جس کاکوئی وقت متعین نہیں ہوتا اور یہ خون بیماری [1] ۔مجموع الفتاویٰ لشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللّٰه علیہ 21/434 ۔بعض علماء کا یہ موقف بھی محل نظر ہے کیونکہ نماز کا وقت متعین ہے جیسا کہ جبریل امین نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تھا۔عذر کی بنا پر ایک نماز کو دوسری نماز کے وقت میں ادا کرنے سے اشتراک وقت ثابت نہیں ہوجاتا۔دوسری بات یہ ہےکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں عورتوں کے ساتھ بارہا ایسا معاملہ پیش آیا لیکن آپ نے کسی کو عصر کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھنے کا حکم نہیں دیا۔تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں۔محلی ابن حزم :2/198 وفتاوی الدین الخالص: 3/61 (عثمان منیب)۔ [2] ۔مجموع الفتاویٰ لشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللّٰه علیہ: 23/335۔