کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 73
جائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے، اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے"[1] آيت میں(فَاعْتَزِلُوا) سے جماع نہ کرنا مراد ہے۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "اصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ إِلا النِّكَاحَ" "جماع کے علاوہ حائضہ سے ہر کام کرسکتے ہو۔"[2] (3)۔خاوند کو حائضہ بیوی کے ساتھ(فرج میں جماع کے علاوہ) معانقہ اور بوس وکنار وغیرہ کی اجازت ہے۔ (4)۔خاوند کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی بیوی کوحالت حیض میں طلاق دے۔جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: "يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ" "اے نبی!(اپنی امت سے کہو کہ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت میں انھیں طلاق دو۔"[3] آیت میں کلمہ(لِعِدَّتِهِنَّ) سے مراد یہ ہے کہ وہ حیض سے پاک ہوں اور ان سے اس طہر میں صحبت بھی نہ کی گئی ہو۔علاوہ ازیں ایک روایت میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ وہ بیوی سے رجوع کریں اور اگرطلاق کا ارادہ ہوتوحالت طہر میں طلاق دیں۔[4] (5)۔جب حیض کا خون بند ہوجائے تو عورت پاک ہوجاتی ہے۔اب اس پر غسل کرنا فرض ہے۔غسل کے بعد ہروہ کام جو حیض کے سبب ممنوع تھا،انھیں کرنے کی اجازت ہے۔ (6)۔اگر طہارت حاصل کرلینے کے بعد مٹیالا پانی یا پیلا پانی دیکھے تو اس پر فکرمند نہ ہوکیونکہ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے: "كنا لا نعد الصفرة والكدرة بعد الطهر شيئا" "ہم (عہد نبوی میں) پاک ہوجانے کے بعد مٹیالا یا پیلا پانی کچھ شمار نہ کرتی تھیں۔"[5] [1] ۔البقرۃ:۔222۔ [2] ۔صحیح مسلم ،الحیض باب جواز غسل الحائض راس زوجھا۔۔۔حدیث 302 وسنن ابی داود، الطھارۃ، باب مواکلۃ الحائض ومجامعتھا ،حدیث 258۔ [3] ۔الطلاق 1/65۔ [4] ۔صحیح البخاری، التفسیر، سورۃ الطلاق، باب1 حدیث 4908۔وصحیح مسلم ،الطلاق، باب تحریم طلاق الحائض بغیر رضاھا۔۔۔،حدیث 1471۔ [5] ۔صحیح البخاری، الحیض، باب الصفرۃ والکدرۃ فی غیر ایام الحیض، حدیث 326 وسنن ابی داود، الطھارۃ،باب فی المراۃ تری الصفرۃ والکدرۃ بعد الطھر، حدیث 307 واللفظ لہ۔