کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 70
(8)۔جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتاہے ان کا جوٹھا پاک ہے۔ (9)۔ان کے علاوہ بلی کا جوٹھا بھی پاک ہے ،چنانچہ بلی کے بارے میں سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّمَا هي مِنْ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ اَوالطَّوَّافَات" "یہ (بلی) پلید نہیں ہے،یہ تمہارے پاس کثرت سے آنے جانے والوں میں سے ہے۔"[1] آپ نے بلی کو گھروں میں خدمت کے لیے آنے جانے والے غلاموں کے ساتھ تشبیہ دی جن سے پردہ کرنے میں مشکل پیش آتی ہے،نیز بلی کے جوٹھے سے بچنا مشکل تھا،اس لیے بلی کو پاک قراردے کرحرج اور مشقت کو ختم کردیا۔ بعض علمائے کرام نے بلی سے چھوٹے پرندوں اورجانوروں پر بلی والا حکم لگایا ہے،یعنی چھوٹے پرندوں کاجوٹھا بلی کے جوٹھے کی طرح پاک ہے ،نجس نہیں کیونکہ علت طواف دونوں میں مشترک ہے۔ بلی اور جو جانور بلی کے حکم میں ہیں ان کے سوا جن جانوروں کا گوشت نہیں کھایا جاتاان کی لید،پیشاب اور جوٹھا پلید ہے۔ اے مسلمان بھائی!آپ کو ظاہری وباطنی طہارت کا اہتمام کرنا چاہیے۔باطنی طہارت توحید اور قول وعمل میں اخلاص کی بدولت میسر آتی ہے اور ظاہری طہارت ہر قسم کی گندگیوں اور پلیدیوں کو دور کرکے حاصل ہوتی ہے۔ہمارا دین حقیقی اور حکمی نجاستوں سے پاک وصاف رہنے کی تاکید کرتا ہے۔مسلمان پاک صاف ہے اور پاکیزگی کو اختیار کرتاہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "الطَّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ" "طہارت نصف ایمان ہے۔"[2] اللہ کے بندے !طہارت کا اہتمام کرو،نجاستوں سے دور رہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ عام طور پر قبر کا عذاب پیشاب سے بے احتیاطی کے باعث ہوتا ہے۔[3] جب تم نجاست سے آلودہ ہوتو حتی الامکان حصول طہارت میں جلدی کروتاکہ تم پاک رہو۔خصوصاً نماز کا [1] ۔جامع الترمذی، الطھارۃ، باب ماجاء فی سور الھرۃ، حدیث 92۔ [2] ۔صحیح مسلم، الطھارۃ باب فضل الوضوء، حدیث 223۔ [3] ۔صحیح البخاری، الوضوء، باب من الکبائر ان لا یستتر من بولہ،حدیث 216،وصحیح مسلم،الطھارۃ،باب الدلیل علی نجاسۃ البول ووجوب الاستبراء منہ،حدیث 292 والمستدرک للحاکم 1/183،184۔