کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 69
حاصل کرنے کے لیے کافی ہے جیسا کہ سیدہ ام قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ اپنے چھوٹے بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائیں۔بچے کو آپ نے اپنی گود میں بٹھادیا تو اس نے آپ کے کپڑوں پر پیشاب کردیا،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اوراپنے کپڑوں پر چھینٹے مارلیے،دھویا نہیں۔[1] (7)۔اگر بچہ اپنی مرضی اور خواہش سے کھانا کھاتا ہوتو اس کا پیشاب بڑے آدمی کی طرح پلید ہے۔اسی طرح چھوٹی بچی کے پیشاب کا حکم بڑی لڑکی کی طرح ہے۔یعنی ان تمام صورتوں میں پیشاب کو دیگر نجاستوں کی طرح پانی سے دھویاجائے گا۔ نجاست کی تین قسمیں ہیں: 1۔ نجاست غلیظہ،جیسے کتے کالعاب وغیرہ۔2۔نجاست خفیفہ،جیسے کھانا نہ کھانے والے بچے کاپیشاب۔3۔نجاست متوسطہ ،جیسے مذکورہ بالا کے علاوہ باقی نجاستیں۔ ہمارے لیے ضروری ہے کہ جانوروں کی لید اور پیشاب کے پاک یاناپاک ہونے سے متعلق شرعی احکام معلوم کریں تاکہ مزید بصیرت حاصل ہو۔ میرے بھائی! جس جانور کا گوشت کھانا حلال ہے اس کا گوبر اور پیشاب بھی پاک ہے ،جیسے اونٹ ،گائے،بکری اور بھیڑ وغیرہ۔ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ عرینہ کے لوگوں کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنی بیماری کے علاج کے لیے وہاں چلے جائیں جہاں ہمارے صدقہ کے اونٹ ہیں اور ان کاپیشاب اور دودھ پئیں۔[2] اگر کوئی کہے کہ یہ علاج ایک ضرورت اور مجبوری کی حالت میں مقرر ہوا تھا تو ہم گزارش کریں گے کہ آپ نے انھیں یہ حکم نہیں دیا تھا کہ نماز کی ادائیگی کے وقت ان اونٹوں کے پیشاب اور گوبر کے اثرات کو پانی سے دھولیا کریں۔نیز صحیح بخاری میں ایک روایت ہے:" نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بنانے سے پہلے بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کرلیتے تھے۔"[3] اور دوسروں کو بھی اس کی اجازت دیتے تھے،اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ بکریاں وہاں پیشاب بھی کرتی تھیں۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے کہاہے:"لید کے بارے میں اصل حکم طہارت کا ہے سوائے اس لید کے جسے شریعت نے مستثنیٰ کردیا ہے۔"[4] [1] ۔صحیح البخاری ،الوضوء، باب بول الصبیان، حدیث 223 وصحیح مسلم، الطھارۃ ،باب حکم بول الطفل الرضیع۔۔۔حدیث 287۔ [2] ۔صحیح البخاری ،الوضوء ،باب ابوال الابل والدواب والغنم ومرابضھا ،حدیث 233 وصحیح مسلم، القسامۃ والمحاربین، باب حکم المحاربین والمرتدین ،حدیث 1671۔ [3] ۔صحیح البخاری، الوضوء باب ابوال الابل والدواب والغنم ومرابضھا ،حدیث 234 وصحیح مسلم ،الحیض باب الوضوء من لحوم الابل، حدیث 360۔ [4] ۔الفتاویٰ الکبریٰ ،الاختیارات العلمیۃ، باب ازالۃ النجاسۃ: 5/313۔