کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 65
بھی نہ کرسکتا ہو اور اسے وضو کروانے والا بھی کوئی نہ ہو،نیز نماز کا وقت ختم ہونے کاخوف ہوتو وہ تیمم کرکے نماز ادا کرلے۔ 5۔ جب پانی شدید ٹھنڈا ہو اور گرم کرنے کا کوئی ذریعہ بھی نہ ہو۔نیز گمان غالب بھی یہ ہوکہ اس پانی کے استعمال سے وہ بیمار ہوجائے گا تو وہ تیمم کرکے نماز پڑھ لے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا" "اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو،یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نہایت مہربان ہے۔"[1] (4)۔اگر پانی قلیل مقدار میں میسر ہو جس سے عضو کے تمام اعضاء دھل نہ سکتے ہوں تو جس قدر ممکن ہو اس قلیل پانی سے اعضائے وضو دھولیے جائیں،باقی اعضاء پر تیمم کرلیا جائے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "فَاتَّقُوا " اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ "جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ سے ڈرتے رہو۔"[2] (5)۔اگر کسی زخم کو دھونے یا اس پر پانی کے ساتھ مسح کرنے سے تکلیف کا اندیشہ ہوتو اس حصے پر تیمم کرے اور باقی حصہ دھولے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے: "وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا" "اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو،یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نہایت مہربان ہے۔"[3] (6)۔اگر زخم ایسا ہو کہ اس پر مسح کرنے سے نقصان کا اندیشہ نہ ہوتو وہ مرہم لگے زخم پر مسح کرلے،تیمم کی ضرورت نہیں۔ زمین کی سطح پر موجود صاف مٹی ہو یا ریتلی زمین یا شور کلر والی زمین ہو،سب مٹی کے حکم میں ہیں،ہر ایک سےتیمم درست ہے۔اہل علم کا یہی قول صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کاارشاد: "فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا""پاک مٹی سے تیمم کرو۔" عام ہے۔ علاوہ ازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم (سفر میں) اپنے ساتھ(تیمم کے لیے) مٹی رکھنے کاتکلف اور اہتمام نہ کرتےتھے،بلکہ جس قسم کی زمین پر نماز ادا کرتے ،وہیں مٹی ،ریت وغیرہ پر ہاتھ مارکر تیمم کرلیاکرتے تھے۔ [1] ۔النساء:4/29۔ [2] ۔التغابن 64/16 فاضل مصنف نے اس مسئلے کی دلیل ذکر نہیں کی،باقی رہا آیت سے استدلال تو وہ بعید ہے،تاہم حدیث میں ا یک مد پانی سے وضو کرنے کا جو ذکر ہے اس سے کم پانی قلیل ہی شمار ہوگا اور اس حالت میں تیمم ہی کیا جائے گا۔ [3] ۔النساء:4/29۔