کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 64
میرا رعب طاری کردیا گیا ہے،میرے لیے زمین مسجد اور ذریعہ طہارت بنادی گئی ہے،میری امت کے کسی فرد پر جہاں بھی نماز کا وقت آجائے تو وہ وہیں ادا کرلے۔"[1] مسند امام احمد کے الفاظ اس طرح ہیں: "فعنده مسجده وعنده طَهُوره" "اس کے پاس اس کی مسجد بھی ہے اور وضو بھی ہے۔"[2] شرعی عذر کے وقت تیمم وضو کا بدل ہے،لہذا تیمم کے ساتھ ہر وہ کام کیاجاسکتا ہے جو وضو کرنے سے ہوتا ہے،مثلاً:نماز،طواف اور تلاوت قرآن وغیرہ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے وضو کی طرح تیمم کو بھی طہارت کا ذریعہ اور سبب قرار دیا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وَجُعِلَتْ تُرْبَتُهَا لَنَا طَهُورًا" "زمین کی مٹی ہمارے لیے ذریعہ طہارت قراردی گئی ہے۔"[3] (3)۔درج ذیل صورتوں میں تیمم کرنا مشروع ہے: 1۔ پانی دستیاب نہ ہونے کی صورت میں کیونکہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے: "فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا" "اورتمھیں پانی نہ ملے تو تم پاک مٹی سے تیمم کرلو۔"[4] واضح رہے پانی کا سفر یا اقامت میں نہ ہونا یاتلاش کرنے کے باوجود پانی میسر نہ آنا،دونوں صورتوں کاایک ہی حکم ہے کہ تیمم کرلیا جائے۔ 2۔ پانی موجود ہو لیکن صرف پینے اور پکانے کے لیے ہو،اگر اسے طہارت کےلیے استعمال کرتا ہے تو اپنی یا ساتھی یا اپنے جانور کی جان لیوا پیاس کا خطرہ ہے،اس صورت میں تیمم مشرو ع ہے۔ 3۔ جب کسی کو پانی کے استعمال سے بیمار ہوجانے یا بیماری کے بڑھ جانے کااندیشہ ہو۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا" "اور اگر تم بیمار ہو یاسفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے فارغ ہوکر آیا ہویاتم عورتوں سے ملے ہو اور تمھیں پانی نہ ملے توتم پاک مٹی سے تیمم کرلو۔"[5] 4۔ جب کوئی شخص(بڑھاپے یا) بیماری کی وجہ سے پانی کے استعمال میں اس قدر بے بس اور عاجز ہو کہ حرکت [1] ۔صحیح البخاری، التیمم ،باب 1 ،حدیث 335 وصحیح مسلم، المساجد، باب المساجد ومواضع الصلاۃ ،حدیث 521۔ [2] ۔مسند احمد 5/248۔ [3] ۔صحیح مسلم، المساجد ،باب المساجد ومواضع الصلاۃ ،حدیث 522۔ [4] ۔المائدۃ:5/6۔ [5] ۔المائدۃ:5/6۔