کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 61
جاتاہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت سے کہا: "وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي" "جب تیرے حیض کے دن گزر جائیں تو غسل کر اور نماز ادا کر۔"[1] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "فإذا تَطَهَّرْنَ" "ہاں جب وہ پاک ہوجائیں"[2] یعنی حیض والی عورتیں حیض ختم ہونے کے بعد غسل کرکے پاک ہوجائیں۔ کامل غسل کا طریقہ اولاً دل میں نیت کرے ،پھر بسم اللہ پڑھے،تین مرتبہ ہاتھ دھوئے اور استنجا کرے،پھر مکمل وضو کرے،پھر سر پر تین چلو ڈالے اور بالوں کو جڑوں تک ترکرے،پھر سارے بدن پر(پہلے دائیں پھر بائیں)پانی ڈالے،بدن کو ہاتھوں سے خوب ملے تاکہ پانی بدن کے ہرحصے تک پہنچ جائے۔ حیض ونفاس سے فارغ ہونے والی عورت غسل کے وقت سر کے بال کھول دیے لیکن غسل جنابت میں سر کے بال کھولنا ضروری نہیں کیونکہ اس میں عورت پر مشقت اور مشکل ہے،البتہ وہ پانی سر کے بالوں کی جڑوں تک ضرور پہنچائے۔ غسل جنابت کرنے والا مرد ہویا عورت وہ بدن کے ہرحصے تک پانی کو پہنچائے اور اسے ترک کرنے کی پوری کوشش کرے۔بالوں کی جڑوں،بدن کی نظر نہ آنے والی جگہوں ،حلق کے نیچے،ناف کے اندر،بغلوں کے نیچے اور گھٹنوں کے نیچے والے حصوں میں توجہ اور اہتمام سے پانی بہائے۔گھڑی یا انگوٹھی پہنی ہوتواسے حرکت دے تاکہ پانی ان کے نیچے تک پہنچ جائے۔اس طرح مکمل طور پر اہتمام سے غسل جنابت کرے کہ اس کے بدن میں ایسی جگہ نہ رہ جائے جہاں پانی نہ پہنچ سکا ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: " ان تَحْتَ كُلِّ شَعْرَةٍ جَنَابَةٌ ،فَاغْسِلُوا الشَّعْرَ وَأَنْقوُا الْبَشَرَ" "ہربال کے نیچے جنابت ہے،لہذا بالوں کو دھوؤ اور اپنے جسم کو اچھی طرح صاف کرو۔"[3] (6)۔غسل کرنے والا پانی کے استعمال میں اسراف نہ کرے۔مسنون یہ ہے کہ پانی کاکم سے کم استعمال ہو اور غسل بھی مکمل ہوجیسا کہ ایک روایت میں ہے: [1] ۔صحیح البخاری، الحیض، باب اقبال المحیض وادبارہ، حدیث 320،وصحیح مسلم ،الحیض ،باب المستحاضۃوغسلھا وصلاتھا، حدیث 333۔ [2] ۔ البقرۃ2/222۔ [3] ۔(ضعیف) سنن ابی داود، الطھارۃ، باب فی الغسل من الجنابۃ ،حدیث 248 وجامع الترمذی، الطھارۃ ،باب ماجاء ان تحت کل شعرۃ جنابۃ، حدیث 106۔