کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 59
وسوسوں اور شیطان کے غلبہ سے خود کو بچانے کی فکرو کوشش کیجیے ۔ وہ آپ کی طہارت کے ٹوٹنے کا وسوسہ بار بار آپ کے سینے میں ڈالتا ہے اور پریشان کرتا ہے، اس کی شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیجیے ،اس کے وسوسوں کی طرف توجہ مت دیجیے ۔اہل علم سے طہارت کے مسائل پوچھیے تاکہ آپ کی بصیرت رہے۔ اپنے کپڑوں کو پاک و صاف رکھیے تاکہ آپ کی نماز صحیح اور عبادت درست ہو۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ" "بے شک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور پاکیزہ رہنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔"[1] اللہ تعالیٰ ہمیں علم نافع اور عمل صالح کی توفیق بخشے۔(آمین) غسل کے احکام پچھلے صفحات پر آپ نے احکام طہارت میں سے حدث اصغر،یعنی وضو کے مسائل اور وضو کو توڑنے والی اشیاء اور صورتوں کا مطالعہ کیا۔اب ہم حدث اکبر،یعنی جنابت،حیض اور نفاس سے متعلق احکام طہارت بیان کرتے ہیں،اس طہارت کا نام"غسل" ہے،جس میں تمام بدن پر مخصوص طریقے کے ساتھ پانی استعمال کیا جاتا ہے،جس کی تفصیل آپ یہاں ملاحظہ فرمائیں گے۔واضح رہے،غسل جنابت فرض ہے،چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا " "اور اگرتم جنبی ہوتو اچھی طرح طہارت حاصل کرلو۔"[2] اہل علم نے بیان کیا ہے کہ عہد جاہلیت میں غسل جنابت کیا جاتا تھا اور یہ دین ابراہیمی کاایک ایسا مسئلہ تھا جو عربوں میں چلا آرہاتھا۔ موجبات غسل کسی مسلمان کو درج ذیل چھ چیزوں میں سے کوئی ایک بھی پیش آجائے تو اس پر غسل فرض ہوجاتا ہے۔ (1)۔منی کانکلنا مرد ہو یاعورت ،اس کی شرمگاہ سے منی کا نکلنا موجب غسل ہے جس کی دو صورتیں ہیں۔پہلی صورت یہ ہے کہ حالت بیداری میں منی کا خروج ہو اور دوسری یہ ہے کہ حالت نیند میں ایسا ہوجائے۔اگر بیداری کی حالت میں منی نکل گئی تو غسل کرنے کے لیے لذت کا حصول شرط ہے۔اگر لذت حاصل ہوئے بغیر ایسا ہوا تو اس پر [1] ۔البقرۃ:2/222۔ [2] ۔المائدۃ5/6۔