کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 56
ہیں۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ کو وہ اشیاء اور حالتیں بھی معلوم ہوں جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تاکہ ایسا نہ ہو کہ وضو ٹوٹ جانے کے باوجود آپ لاعلمی میں وضو قائم سمجھ کر عبادت کی ادائیگی میں مصروف رہیں جو صحیح اور مقبول نہ ہو۔ میرے مسلمان بھائی! کچھ چیزیں اور صورتیں ایسی ہیں جو وضو کے ٹوٹ جانے کا سبب بن جاتی ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک چیز یا صورت بھی پیش آجانے سے وضو قائم نہیں رہتا بلکہ جس کام کے لیے وضو کیا گیاتھا، اس کی ادائیگی کے لیے نئے سرے سے وضو کرنا پڑتا ہے ،ان مفاسد کو"نواقص وضو"یا"وضو توڑنے والی چیزیں "کہا جاتا ہے۔ شارع علیہ السلام نے ان چیزوں اور صورتوں کو متعین فرمادیا ہے۔ ان میں بعض ایسی ہیں جو وضو کو خود توڑ دیتی ہیں اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں رہتا ، مثلاً: پیشاب پاخانہ کا آنا یا کسی مرد یا عورت کی دبر قبل سے کسی چیز کا خارج ہونا۔ اور بعض صورتیں ایسی ہیں جن میں پیش آجانے سے"نقض وضو"کا غالب گمان ہوتا ہے، مثلاً:زوال عقل، نیند کا غلبہ، بے ہوشی اور دیوانگی وغیرہ ۔عقل کے زائل ہوجانے سے انسان کو اپنے آپ کی ہوش نہیں رہتی ،لہٰذا اس صورت حال کو نقض وضو کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ اب تفصیل ملاحظہ فرمائیے۔ دبر قبل سے کسی چیز کا نکلنا:مرد یا عورت کی دبر یا قبل سے جو اشیاء خارج ہوتی ہیں ان سے وضو ٹوٹ جاتا ہے مثلاً: پیشاب ،پاخانہ ، منی، مذی، حیض، استحاضہ،یا ہوا کا نکلنا وغیرہ پیشاب اور پاخانہ نکلنے کی صورت میں دلائل شرعیہ اور اجماع امت کے فیصلے کے مطابق وجو ٹوٹ جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے" موجبات وضو" کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: "أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ""یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو( تو وضو کرے)۔[1] اگر منی یا مذی نکلے تو احادیث صحیحہ کی روشنی میں وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ امام ابن منذر رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ اسی طرح استحاضہ کا خون آنے سے بھی وضو قائم نہیں رہتا ۔ واضح رہے کہ استحاضہ کا خون عورت کو بیماری لاحق ہونے کی وجہ سے آتا ہے اور وہ حیض کے خون کے علاوہ ہوتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کا خون آتا تھا ۔ان کے مسئلہ دریافت کرنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "فتوضئي وصلي فإنما هو عرق" [1] ۔المائدہ:5/6۔