کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 55
مجبوری کی بنا پر ہے جب تک مجبوری قائم ہے تب تک مدت مسح برقرار ہے۔ پھٹی اور پٹی پر مسح کی دلیل سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ سفر کے لیے نکلے، راستے میں ایک ساتھی کے سر پر پتھر لگا اور وہ زخمی ہوگیا ،اسے نہانے کی حاجت ہوئی تو اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا :کیا میرے لیے تیمم کرنے کی گنجائش ہے؟ انھوں نے کہا: تمہارے لیے تیمم کی رخصت نہیں کیونکہ تمہارے پاس پانی موجود ہے اور تم اسے استعمال کر سکتے ہو ،چنانچہ اس نے غسل کیا تو فوت ہو گیا۔ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو اس واقعہ کی اطلاع دی تو آپ نے فرمایا: "قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللّٰهُ، أَلَا سَأَلُوا إِذَا لَمْ يَعْلَمُوا فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَتَيَمَّمَ وَ يَعْصِبَ عَلَى جُرْحِهِ خِرْقَةً ثُمَّ يَمْسَحُ عَلَيْهَا، وَيَغْسِلُ سَائِرَ جَسَدِهِ" "جنھوں نے اسے قتل کیا، اللہ تعالیٰ انھیں قتل کرے، اگر انھیں علم نہ تھا تو پوچھ کیوں نہ لیا؟ جہالت کا علاج یہ ہے کہ کوئی مسئلہ معلوم نہ ہو تو کسی عالم سے پوچھ لیا جائے ،(پھر فرمایا:) اگر وہ مریض تیمم کرنا اور زخم پر پٹی باندھتا اور اس پر مسح کر لیتا اور باقی جسم دھولیتا تو یہ اسے کافی تھا۔"[1] مقام مسح اور اس کا طریقہ موزوں یا جرابوں کے اوپر والے حصے پر مسح کرنا چاہیے۔ اگر پگڑی باندھی ہوئی ہوتو اس کے اوپر والے مکمل حصے پر مسح کیا جائے۔کسی عضو یا زخم پر تختیاں یا پٹیاں بندھی ہوں تو اس عضو کے اوپر نیچے مکمل طور پر مسح کرنا چاہیے۔ موزوں پر مسح کا طریقہ یہ ہے کہ ہاتھوں کی انگلیاں پانی سے ترکر کے انھیں پاؤں کی انگلیوں پر رکھا جائے، پھر انھیں پاؤں کے اوپر والے حصے پر پنڈلی تک پھیرا جائے۔ دائیں پاؤں ہاتھ سے اور بائیں پاؤں پر بائیں ہاتھ سے مسح کیا جائے مسح کرتے وقت ہاتھوں کی انگلیاں کھلی ہوں۔ مسح ایک ہی بار کیا جائے،دو تین بار کرنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں علم نافع اور عمل صالح کی توفیق دے۔ آمین۔ نواقص وضو گزشتہ صفحات پر آپ احادیث صحیحہ کی روشنی میں وضو کی شرائط ،فرائض، سنن اور اس کا مفصل طریقہ پڑھ چکے [1] ۔سنن ابی داؤد، الطہارۃ ،باب المجدور یتیمم ،حدیث:336۔وسنن ابن ماجہ، الطہارۃ وسننھا، باب فی المجروح تصیبہ الجنابۃ فیخاف علی نفسہ ان اغتسل، حدیث 572۔قال الالبانی رحمۃ اللّٰه علیہ: حسن دون قولہ : إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ.....۔