کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 51
مسلمانوں کو ہر اس عمل کی توفیق دے جو اسے محبوب اور پسند ہو۔ اے مسلمان بھائی!آپ کی کوشش ہونی چاہیے کہ وضو اور عبادات کی ادائیگی مسنون طریقے سے افراط و تفریط سے دور رہتے ہوئےہو کیونکہ یہ دونوں چیزیں قابل مذمت ہیں۔ بہتر کام میانہ روی ہے۔ عبادت میں سستی سے نقص پیدا ہوتا ہے جب کہ انتہا پسند (اسراف کرنے والا)ایسی زیادتی کا مرتکب ہوتا ہے جو دین میں شامل نہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کرنے والا ہی صحیح طریقے سے عبادت کا حق ادا کرتا ہے۔ اے اللہ! ہمیں حق کو حق کی شکل میں دکھا اور اس کی اتباع کی توفیق دے اور باطل کو باطل کی صورت میں سامنے لا اور اس سے اجتناب کی ہمت دے، ایسا نہ ہو کہ باطل ہم پر واضح نہ ہو سکے اور ہم اس میں پڑ کر گمراہ ہوجائیں ۔(آمین) موزوں اور جرابوں وغیرہ پر مسح کرنے کا حکم ہمارا دین آسان دین ہے، مشکل و مشقت والا دین نہیں، اس کے احکام ایسے ہیں جو حالات سے مطابقت رکھتے ہیں۔ مصلحت کے قریب تر اور مشقت سے دور تر ہیں۔ ان میں کچھ احکام وضو سے متعلق بھی ہیں۔ جب کسی مسلمان نے اعضائے وضو پر ایسی چیز پہنی یا باندھی ہو جس کی اسے شدید ضرورت ہو اور اس کے اتارنے میں مشکل ہو۔ پاؤں کی حفاظت کے لیے موزے یا جرابیں سر کی حفاظت کے لیے پگڑی یا کسی زخم کو خرابی سے بچانے کے لیے پٹی باندھی ہوتو ایسی حالت میں شارع علیہ السلام نے اسے وہ چیز اتار کر عضو وضو کو دھونے کی زحمت نہیں دی بلکہ اسے اس پر مسح کرنے کی رخصت دی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے بندوں پر تخفیف اور آسانی ہے اور مشقت سے بچاؤ ہے۔ اگر کسی مقیم یا مسافر شخص نے موزے یا جرابیں پہنی ہوں تو انھیں اتار کر پاؤں کو دھونے کی بجائے ان پر مسح کرنا صحیح اور مرفوع روایات سے ثابت ہے جو درجہ تو اتر تک پہنچتی ہیں۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے: "مجھے ستر(70)کے قریب صحابہ کرابہ رضی اللہ عنہم نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موزوں پر مسح کرتے تھے۔"[1] امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "موزوں پر مسح کی احادیث بہت سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہیں۔"[2] [1] ۔الاوسط لابن المنذر1/430۔433۔و شرح مسلم للنووی 3/210۔ [2] ۔شرح مسلم للنووی 3/210۔