کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 50
ایک روایت میں ہے: "أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ :مَا هَذَا السَّرَفُ ؟ فَقَالَ: أَفِي الْوُضُوءِ إِسْرَافٌ؟ قَالَ نَعَمْ، وَإِنْ كُنْتَ عَلَى نَهَرٍ جَارٍ" "سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا اور وہ وضو کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور فرمایا: پانی میں اس قدر اسراف کیوں ؟تو انھوں نے کہا: کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا:"ہاں اگرچہ تم بہتے ہوئے دریا پر ہو۔"[1] ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں خبر دی ہے:"میری امت میں سے کچھ لوگ طہارت کی بابت حد سے تجاوز کریں گے۔"[2] نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "إِنَّ لِلْوُضُوُءِ شَيْطَاناً يُقالُ لَهُ : الْوَلَهَانُ، فَاتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَاء" "وضو کے لیے ایک شیطان ہے جسے ولہان کہا جاتا ہے ،لہٰذا تم پانی کے بارے میں وسوسوں سے بچو۔"[3] پانی کے استعمال میں اسراف سے فائدہ ہونے کی بجائے بہت سی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ان میں سے چند ایک یہ ہیں: کبھی پانی کی کثرت پر اعتماد ہوتا ہے اور اس طرف توجہ اس قدر ہوتی ہے کہ یہ خیال نہیں رہتا کہ پانی اعضاء کے تمام حصوں تک پہنچ پایا ہے یا نہیں بلکہ بسا اوقات پانی عضو کے مکمل حصے تک پہنچ نہیں پاتا، اس بنا پر اس کا وضو ناقص ہوتا ہے اور وہ طہارت کے بغیر ہی نماز ادا کرتا ہے۔ وضو میں پانی کے کثرت استعمال (اسراف)سے عبادت میں غلو کا اندیشہ ہے کیونکہ وضو عبادت ہے اور جب عبادت میں غلو آجائے تو خرابی اور فساد لازم آتا ہے۔ پانی کے بے جا استعمال کے سبب طہارت سے متعلق وسوسے (شکوک و شبہات )پیدا ہوتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں مکمل بھلائی اور خیرہے۔اس کے علاوہ امور بدعات ہیں۔اللہ تعالیٰ تمام [1] ۔(ضعیف ) سنن ابن ماجہ، الطہارۃ وسننھا ،باب ماجاء فی القصد فی الوضوء ،حدیث 425۔ومسند احمد 2/221۔اس معنی میں اگلی حدیث صحیح ہے۔ [2] ۔سنن ابی داؤد، الطہارۃ ،باب الاسراف فی الوضو ء ،حدیث 96۔ [3] ۔(ضعیف)جامع الترمذی ،الطہارۃ، باب ماجاء فی کراھیہ الاسراف فی الوضوء بالماء ،حدیث 57۔ ابن ماجہ، الطہارۃ وسننھا ،باب ماجاء فی القصد فی الوضوء ، حدیث 421۔