کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 45
اعضاء کو آیت وضو کے مطابق دھولیا جائے گا اور باطنی طہارت تب حاصل ہو گی جب وہ کلمہ شہادت پڑھے گا جو انسان کو شرک و کفر سے پاک کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آیت وضو کے آخر میں اسی مضمون کو یوں بیان فرمایا ہے: "مَا يُرِيدُ اللّٰهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ " "اللہ تعالیٰ تم پر کسی قسم کی تنگی ڈالنا نہیں چاہتا ،بلکہ اس کا ارادہ تمھیں پاک کرنے کا اور تمھیں اپنی بھر پور نعمت دینے کا ہے تاکہ شکر ادا کرتے رہو۔"[1] اللہ تعالیٰ نے تمھیں وضو کا حکم دیا تاکہ وہ تمہاری خطاؤں کو معاف کرے اور اپنے فضل وانعام کا اتمام کردے۔ "آیت وضو"کے ابتدائی حصے پر غور فرمائیے ! اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو کس طرح خوبصورت انداز میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا" اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان والے ہی اللہ تعالیٰ کے احکام سنتے اور بجا لاتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ" "وضو کی حفاظت صرف مومن ہی کرتا ہے۔"[2] وضو کے مستحبات وضو کے بارے میں جو کچھ ذکر کیا جا چکا ہے اس کے علاوہ باقی کام "مستحب " ہیں جن کی حیثیت ودرجہ یہ ہے کہ وہ کام کرے گا تو اجر پائے گا اور اگر چھوڑدے گا تو گناہ گار نہیں، یہی وجہ ہے کہ فقہائے کرام نے ان اعمال کو"سنن الوضوء " کانام دیا ہے۔ اور وہ یہ ہیں: مسواک کرنا:مسواک کی اہمیت فضیلت اور کیفیت پر بحث گزر چکی ہے۔ یاد رکھیے مسواک کا مقام و محل کلی کرنے کے وقت ہے تاکہ مسواک اورکلی دونوں سے منہ اچھی طرح صاف ہو جائے اور نمازی عبادت ،تلاوت اور اللہ تعالیٰ سے مناجات کے لیے تیار ہو جائے۔ چہرہ دھونے سے پہلے ابتدائے وضو میں ہاتھوں کوتین مرتبہ دھونا بھی مستحب ہے۔ اس بارے میں کئی ایک احادیث وارد ہوئی ہیں ۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی ہے کہ اعضائے وضو تک پانی پہنچانے کا آلہ دونوں ہاتھ ہی ہیں تو احتیاط کا تقاضا یہ ہےکہ مکمل وضو سے پہلے ان کو اچھی طرح دھو کر صاف کر لیا جائے۔ کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کا عمل چہرہ دھونے سے پہلے انجام دینا وضو کے مستحبات میں سے ہے کیونکہ احادیث میں ان کا ذکر موجود ہے۔ اگر انسان روزے کی حالت میں نہ ہو تو ان دونوں میں مبالغے سے کام لے، یعنی [1] ۔ المائدہ:5۔6 [2] ۔ سنن ابن ماجہ، الطہارۃ و سننھا، باب المحافظۃ علی الوضو ء ،حدیث 277۔279۔