کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 44
ترتیب ۔وضو کرنے والا شخص پہلے چہرہ دھوئے، پھر دونوں ہاتھ، پھر سر کا مسح کرے اور آخر میں پاؤں دھوئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آیت وضو"اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ کو اوراپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھولو اپنے سروں کا مسح کرواور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھولو۔"میں وضو کو ترتیب سے بیان کیا ہے۔نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی قرآنی ترتیب کے مطابق وضو کیا ۔ اور فرمایا: "هَذَا وُضُوءُ مَنْ لا يَقْبَلُ اللّٰهُ مِنْهُ صَلاةً إِلا بِهِ" "یہ اس شخص کا وضو ہے جس کے بغیر اللہ اس کی نماز قبول نہیں کرتا۔"[1] اعضاء کا پے درپے دھونا۔ وضو کرنے والا "اعضائے وضو" کو پے درپے، لگاتار دھوئے ۔ایک عضو کو دھو کر کچھ وقفے کے بعد دوسرا عضو دھونا درست اور صحیح نہیں، لہٰذا پوری کوشش کی جائے کہ وضو کے اعضاء یکے بعد دیگر ے تسلسل کے ساتھ دھوئے جائیں۔ یہ وضو کے وہ فرائض ہیں جن کی ادائیگی اس طریقہ کے مطابق کی جائے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے( اور جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و عمل سے واضح کیا ہے)۔ ابتدائے وضو میں تسمیہ (بسم اللہ پڑھنے )کے وجوب یا عدم وجوب میں علمائے کرام میں اختلاف ہے، البتہ سب کے نزدیک تسمیہ مشروع ہے جس کا ترک درست نہیں۔ تسمیہ کے کلمات" بسم اللہ" ہیں اور اگر کسی نے الرحمٰن الرحیم کے الفاظ بھی بڑھائے تو کوئی حرج نہیں۔(واللہ اعلم )[2] آیت وضو میں چار اعضاء کے دھونے کا جوحکم ہے اس میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ بدن کے یہ اعضاء گناہ کے ارتکاب میں اکثر استعمال ہوتے ہیں، وضو سے ظاہری صفائی و طہارت کے ساتھ ساتھ ان اعضاء کی باطنی صفائی بھی ہو جاتی ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے کہ بے شک مسلمان جب (وضو کرتے وقت ) کسی عضو کو دھوتا ہے تو اس عضو کی ہر خطا(جس کا اس نے ارتکاب کیا ہو)وضو کے پانی سے یا اس کے آخری قطروں سے معاف ہو جاتی ہے۔[3] ان اعضاء کو دھونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے"کلمات شہادت"کے ذریعے سے تجدید ایمان کی راہنمائی فرمائی ہے تاکہ ظاہری اور باطنی طہارت دونوں یکجا ہو جائیں۔ ظاہری طہارت کا حصول اس وقت ہو گا جب [1] ۔(ضعیف)سنن ابن ماجہ، الطہارۃ وسننھا باب ماجاء فی الوضوء مرۃ ومرتین وثلاثاً، حدیث:419والسنن الکبری للبیہقی1/80۔ [2] ۔بسم اللہ پر اکتفا کرنا ہی راجح ہے۔(ع۔و) [3] ۔ھذا معنی الحدیث والاصل عندمسلم وغیرہ، صحیح مسلم ،الطہارۃ باب خروج الخطایا مع ماء الوضوء، حدیث:244۔ والموطا للامام مالک: 1/32۔حدیث :31۔