کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 41
سے انکار کر رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی(ان احکام میں)مخالفت کر رہے ہیں اور ایسی درآمدی تہذیب کی تقلید کر رہے ہیں جو ہمارے دین اسلامی تشخص سے مناسبت نہیں رکھتی ۔ ان لوگوں نے بعض مغربی یا مشرقی رذیل شخصیتوں کو اپنا آئیڈیل بنا لیا ہے، اعلیٰ چھوڑ کر ادنی کو پسند کر لیا ہے بلکہ طیب و کامل سے صرف نظر کر کے خبیث اور ناقص صورت پر اکتفا کر بیٹھے ہیں۔ یوں انھوں نے اپنے آپ پر اور مسلم معاشرے پر ظلم کر کے ایک قبیح چیز کو رواج دیا۔ یہ لوگ اپنے گناہوں اور ان لوگوں کے گناہوں کے ذمہ داربن گئے جو ان کی روش پر چلیں گے اور ان کے قدم پر قدم رکھیں گے۔"لاحول ولا قوة الا باللّٰه العلي العظيم" اے اللہ! مسلمانوں کو اپنے اعمال واقوال کی اصلاح کی توفیق دے انھیں اخلاص اور اتباع سنت کی دولت سے مالا مال فرمادے۔"(آمین ) وضو کے احکام اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ  " "اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھولو۔"[1] اس آیت کریمہ میں نماز کے لیے وضو کو فرض قراردیا گیا ہے اور ان اعضاء کا تذکرہ ہے جن کا وضو میں دھو نا یا مسح کرنا فرض ہے، نیز آیت میں اعضائے وضو کے مقامات کی حد بندی کر دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول وعمل سے وضو کا مکمل طریقہ وضاحت سے بیان کر دیا ہے: وضو کی شرائط ،فرائض اور سنن ہیں۔ شرائط وفرائض کی حتی الامکان ادائیگی صحت وضو کے لیے لازمی ہے۔ سنن سے وضو کی تکمیل ہوتی ہے ،اجر زیادہ ملتا ہے، البتہ کسی سنت کے ترک کر دینے سے صحت وضو پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔[2] [1] ۔المائدہ:5۔6۔ [2] ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو میں جو عمل کیا ہے وہ وضو کا حصہ ہے جس کے ترک کر دینے سے سنت نبوی کے مطابق وضو نہ ہوگا۔(صارم)