کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 40
بڑھانے اور اسے سنوار نے کی رغبت میں متعدد احادیث آئی ہیں کیونکہ داڑھی کے رکھنے میں مرد کا حسن وجمال اور اس کی مردانگی ظاہر ہوتی ہے۔ مقام افسوس ہے کہ اکثر لوگ حدیث کی مخالفت کے درپے ہیں، بڑی بڑی مو نچھیں رکھ رہے ہیں، داڑھیاں مونڈ رہے ہیں اور کاٹ رہے ہیں یا ٹھوڑیوں پر چند بال رکھ رہے ہیں، یہ سب کچھ سیرت نبوی کی کھلی مخالفت ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کی تقلید ہے۔ ایسا شخص مردانہ خوبیوں اور بلندیوں سے اتر کرنسوانی علامات اور پستیوں کو اختیار کرتا ہے۔ ان لوگوں ہی پر شاعر کا یہ شعر صادق آتا ہے: يُقْضَى على المرءِ في أيامَ محنتِهِ حتى يَرَى حَسَناً مَا لَيْسَ بالحَسَنِ علامہ اقبال کی زبان میں اس شعر کا ترجمہ یوں ہے: تھا جو نا خوب بتدریج وہی خوب ہوا کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر ایک اور شاعر نے یوں کہا ہے: ولا عجب أن النساء ترجلت ولكن تأنيث الرجال عجيب "یہ بات عجیب نہیں کہ عورتیں مرد بن گئی ہیں لیکن مردوں کا عورتیں بن جانا تعجب خیز ہے۔" 4۔ناخن تراشنا:خصائل فطرت میں سے ایک خصلت ناخن تراشنا ہے، بڑھانا نہیں۔ یہ عمل جسمانی صفائی میں شامل ہے۔ناخنوں کو تراشنے سے ان کے نیچے جما ہوا میل کچیل دور ہو جاتا ہے، درندوں اور حیوانوں کے ساتھ مشابہت سے اجتناب ہوتا ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ ہپی ازم کے دلدادہ منچلے نوجو ان اور شوخ لڑکیاں لمبے لمبے ناخن رکھتے ہیں جو کہ فطری خصلتوں کی مخالفت ہے، سیرت نبوی سے اعراض ہے اور جاہلوں کی تقلید ہے۔ 5۔بغلوں کے بال اکھیڑنا : بغلوں کے بال اکھیڑنا مسنون ہے تاہم مونڈنا یا کسی پاؤڈر سے صاف کرنا بھی جائز ہے کیونکہ ان بالوں کے اتارنے سے مقصود نظافت و صفائی ہے ،اس طرح وہ بدبو بھی ختم ہو جاتی ہے جو ان بالوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اے مسلمان! ہمارا دین اسلام ان تمام مذکورہ خصائل و اوصاف کو مشروع قراردیتا ہے کیونکہ ان میں ایک مسلمان کے لیے حسن و جمال خود کو پاک صاف کرنا ہے اور مشرکین کی مخالفت بھی ہے بلکہ ان اوصاف فطرت میں بعض امور ایسے ہیں جن سے مرد اور عورت میں امتیاز پیدا ہوتا ہے تاکہ ہر ایک صنف اپنے اپنے دائرہ زندگی میں رہ کر اپنی مناسب شخصیت کو قائم رکھے۔ لیکن کئی فریب خوردہ اور ظالم انسان ان اوصاف فطرت کو عملاً قبول کرنے