کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 39
"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تو مسواک کیا کرتے تھے۔"[1] اس کی وجہ یہ ہے کہ نیند کے دوران معدہ کے بخارات اٹھنے کی وجہ سے منہ کی بوتبدیل ہو کر(ناپسندیدہ)ہو جاتی ہے تو ایسی صورت میں مسواک کے استعمال سے مکروہ اثرات زائل ہو جاتے ہیں۔ اور منہ صاف ستھرا ہو جاتا ہے۔ اگر کسی چیز کے کھانے پینے سے منہ کی بوصحیح نہ رہے تو اس وقت بھی مسواک استعمال کی جائے۔ قرآن مجید کی تلاوت کا ارادہ ہوتو پہلے مسواک کر لینی چاہیے تاکہ کلام اللہ کی تلاوت کے وقت منہ پاک صاف ہو۔ مسواک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مسواک بائیں ہاتھ میں پکڑی جائے۔[2]اور اسے دانتوں اور مسوڑھوں پر اس طرح پھیرا جائے کہ منہ کی دائیں جانب سے شروع کرے اور مسواک کرتا ہوا بائیں جانب لے جائے۔ ہمارے دین حنیف کی امتیازی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ فطرتی خصائل کا حامل دین ہے، جیسا کہ مذکورہ روایات سے واضح ہو چکا ہے ،انھیں فطری صفات اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہیں، پھر اس نے اپنے بندوں کو ان پر عمل کرنے کی رغبت دلائی ہے بلکہ ان کے لیے پسند کیا ہے تاکہ اس کے بندے صفات کاملہ کے حامل ہوں، ان کی وضع قطع اچھی ہو ۔ درحقیقت یہ سابقہ انبیائے کرام کی ایسی سنتیں رہی ہیں جن پر پہلی شریعتوں کا اتفاق تھا ،مسواک کے علاوہ دیگر خصائل فطرت قدرے اختصار سے یہاں بیان کیے جاتے ہیں۔ 1۔زیر ناف بال اتارنا:ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ شرمگاہ کے ارد گرد بالوں کو استرے سے یا کسی اور چیز پاؤڈر وغیرہ سے اتارلے تاکہ خوبصورتی و نظافت حاصل ہو۔ 2۔ختنہ کرنا:حشفہ پر موجود جھلی کا کاٹنا ختنہ ہے۔ یہ عمل خصائل فطرت میں شامل ہے۔ اس کے لیے مناسب وقت بچپن کا زمانہ ہے کیونکہ اس وقت زخم جلدمندمل ہو جاتا ہے اور بچہ کا مل احوال کے ساتھ بڑھتا اور جو ان ہوتا ہے۔ ختنہ کروانے میں بہت سی حکمتیں اور فوائد مضمر ہیں ،ان میں سے اہم فائدہ یہ ہے کہ ختنے کی وجہ سے جھلی کا اندورنی حصہ ظاہر ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ ہر قسم کے میل کچیل سے صاف رہتا ہے۔ 3۔مونچھیں کاٹنا اور خوب پست کرنا:مونچھیں کاٹنے اور خوب پست کرنے سے خوبصورتی اور نظافت پیدا ہوتی ہے۔کفار کی مخالفت بھی ہو جاتی ہے جس کا ہمیں حکم اور تاکید ہے۔مونچھیں کاٹنے اور خوب پست کرنے اور داڑھی [1] ۔صحیح البخاری، الوضوء باب السواک ،حدیث 245 وصحیح مسلم، الطہارۃ باب السواک ،حدیث 255۔ [2] ۔مصنف نے اس بارے میں کوئی نص پیش نہیں کی اور مسواک اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے حصول کا سبب ہے، نیز اس کا شمار مستحسن کاموں میں ہوتا ہے، اس لیے مسواک کا استعمال دائیں ہاتھ سے کرنا زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے۔