کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 387
"اور اگر تجھے کسی قوم کی خیانت کا ڈرہو تو برابر ی کی حالت میں ان کا عہد نامہ توڑدے، اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔"[1] امیر المومنین کے لیے جائز ہے کہ اہل کتاب اور مجوس وغیرہ کو ذمی بنانے کے لیے ان سے عہدو پیمان لے، یعنی وہ اسلامی ملک میں (اپنے دین پر)اس شرط کے ساتھ رہیں گے کہ وہ جزیہ ادا کریں گے اور اسلام کے احکام کا خیال رکھیں گے۔ انھیں پامال نہیں کریں گے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ " "ان لوگوں سے لڑو جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور اس چیز کو حرام نہیں ٹھہراتے جسے اللہ نے اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے اور دین حق کو قبول نہیں کرتے، وہ جو اہل کتاب میں سے ہیں (ان سےلڑو)یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔"[2] واضح رہے جزیہ وہ مال ہے جو کفار سے انھیں قتل نہ کرنے اور مسلمانوں کے ملک میں رہنے کی اجازت کے عوض ہر سال تذلیلاً وصول کیا جاتا ہے۔ بچے ،عورت، پاگل، دائمی مریض، اندھے، انتہائی بوڑھے، عاجز اور فقیرو مسکین سے جزیہ وصول نہ کیاجائے۔ معاہدے کے بعد جب ذمی جزیہ ادا کریں تو اسے قبول کرنا ضروری ہے، ان سے لڑائی کرنا حرام ہے۔اگر انھیں کوئی تکلیف وایذا دے تو ان کا دفاع کرنا اسلامی حکومت کا فرض ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ" "یہاں تک کہ وہ ذلیل و خوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔"[3] یعنی اگر کفار ذمی جزیہ ادا کریں تو ان سے جنگ وقتال نہ کیا جائے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "فَسَلْهُمْ الْجِزْيَة ، فَإِنْ هم أَجَابُوك ،فَاقْبَلْ مِنْهُمْ ، وَكُفَّ عَنْهُمْ" "کفارذمیوں سے جزیہ طلب کرو ۔اگر وہ ادا کر دیں تو ان سے قبول کر لو اور ان سے قتال نہ کرو۔"[4] کوئی مسلمان کسی کافر کو اپنے ہاں پناہ دے سکتا ہے بشرطیکہ اس میں مسلمانوں کا نقصان نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلامَ اللّٰهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ" [1] ۔الانفال:8/58۔ [2] ۔التوبہ:9/29۔ [3] ۔التوبہ:9/29۔ [4] ۔صحیح مسلم الجہاد باب تامیر الامام الامراء علی البعوث حدیث 1731 ومسند احمد 5/358۔