کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 386
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن اسی طرح مال غنیمت تقسیم کیا تھا۔[1] امیر لشکر کی اجازت سے اس کا نائب بھی مال غنیمت تقسیم کر سکتا ہے ۔ کسی بھی شخص کے لیے مال غنیمت کی کوئی چیز چھپانا حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" "یہ نا ممکن ہے کہ کوئی نبی خیانت کرے اور جو کوئی خیانت کرے گا تو جو اس نے خیانت کی ہو گی اس کے ساتھ قیامت کے دن حاضر ہو گا۔"[2] اگر کسی نے کوئی چیز چھپالی اور بعد میں اس کا علم امیر لشکر کو ہوگیا تو وہ اس شخص کو اپنی صوابدید کے مطابق عبرت ناک سزا دے۔ اگر غنیمت زمین کی شکل میں ہو تو امیر المومنین کو اختیار ہے کہ وہ مجاہدین میں تقسیم کرے یا تمام مسلمانوں کی مصلحت اور فائدے کے لیے انھیں وقف کر دے اور جس کی دسترس اور استعمال میں دے اس سے مستقل اور مقرر ٹیکس وصول کرے۔ جب کفار اپنا مال مسلمانوں کے خوف اور ڈر سے(بغیر لڑے ) چھوڑ کر بھاگ جائیں یا لاوارث شخص کا ترکہ ہو یا مال غنیمت کا پانچواں حصہ (جو اللہ اور رسول کا حصہ ہے) وہ مال فے کے حکم میں ہے،اسے مسلمانوں کے مصالح و فوائد اور رفاہ عامہ کے کاموں میں خرچ کیا جائے گا ۔ امیر المومنین کو اختیار ہے کہ وہ کسی ضرورت اور مصلحت کے پیش نظر کفار سے ایک مقرر مدت تک جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کر لے بشرطیکہ اس میں مسلمانوں کا فائدہ اور بہتری ہو لیکن یہ تب ہے جب مسلمان کفار کے مقابلے میں کمزور ہوں۔اگر مسلمان شوکت وقوت کے حامل ہوں، جہاد کرنے کی طاقت رکھتے ہوں تو ان سے صلح کرنا جائز نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر کفار سے معاہدہ صلح کر لیا تھا ،اسی طرح مدینہ منورہ میں ایک وقت تک یہود سے صلح کر لی تھی۔[3] اگرامیر المومنین کو کفار کی جانب سے معاہدہ صلح توڑنے کا خطرہ محسوس ہو تو وہ کفارسے جنگ کرنے سے پہلے معاہدے کے خاتمے کا اعلان کردے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ إِنَّ اللّٰهَ لا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ" [1] ۔صحیح البخاری باب غزوہ حدیث 4228۔وصحیح مسلم الجہاد باب کیفیہ قسمہ الغنیمہ بین الحاضرین حدیث 1762۔ [2] ۔آل عمران: 3۔161۔ [3] ۔یہ مسئلہ محل نظر ہے