کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 385
اسی طرح اسی قسم کے لوگ فوجیوں میں خوف و ہراس پھیلاتے ہیں اور ادھر اُدھر کی خبریں اڑاتے ہیں جس سے فوج میں بددلی پھیلتی ہے۔ امیر المومنین کو چاہیے کہ وہ اسلامی لشکر کے مختلف افسر مقرر کرے اور مال غنیمت کا کچھ حصہ جہاد میں امتیازی خدمات انجام دینے والوں کو انعام کے طور پر دے اور باقی مال اور سامان لشکر میں شامل تمام مجاہدین میں تقسیم کردے۔ اسلامی لشکر نیکی کے کاموں میں اپنے امیر کی اطاعت کرے اس کی خیر خواہی کرے اور اس کے ساتھ استقامت کا مظاہرہ کرے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللّٰهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ" "اے لوگوں جو ایمان لائے ہو! تم اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں صاحب امر ہیں۔"[1] اسلامی لشکر کی ذمے داری ہے کہ وہ کسی ایسے بچے، عورت، راہب، انتہائی بوڑھے دائمی مریض اور اندھے شخص کو قتل نہ کریں جو جنگ کے معاملات میں رائے اور مشورہ نہیں دے سکتے، البتہ انھیں قیدی بنا کر غلام اور لونڈیاں بنایا جا سکتا ہےکیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں اور بچوں کو جب قیدی بناتے تو انھیں لونڈیاں اور غلام بنا لیتے تھے۔ مال غنیمت وہ مال ہے جو جنگ میں غلبے کے نتیجے میں حربی کافر سے حاصل ہوتا ہے یا ان سے بطور فدیہ وصول کیا جاتا ہے۔ اس مال پر اس شخص کا حق ہے جو اسلامی لشکر میں قتال کی نیت سے شامل ہوااور میدان جنگ میں گیا۔ قطع نظر اس بات کے کہ اس نے لڑائی لڑی یا نہ لڑی کیونکہ میدان جنگ میں اس کی موجودگی مجاہدین کی مدد کے لیے ہے اور وہ جنگ کے لیے تیار بھی ہے، اس لیے اسے لڑنے والوں میں شامل سمجھا جائے گا ۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کافر مان ہے:’’مال غنیمت کا حق دار ہر وہ شخص ہے جو میدان جنگ میں حاضر ہوا۔‘‘ مال غنیمت کی تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے کہ امیر لشکر اس مال میں سے پانچواں حصہ الگ کرے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، اقربائے رسول، یتیموں ،فقراء، مساکین اور مسافروں کا ہو گا ،باقی چار حصے لڑنے والے مجاہدین میں تقسیم ہوں گے۔ پیدل مجاہدین کا ایک حصہ اور گھڑ سوار مجاہدین کے تین حصے ہو ں گے۔ ان میں سے ایک حصہ مجاہد کا اور دو حصے اس کے گھوڑے کے۔ ہر مجاہد کو برابر ابرابر حصہ ملے گا۔ [1] ۔النساء:4/59۔