کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 380
اسدف جہاد کے مسائل اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے کو مشروع قراردیا ہے تاکہ اس کا کلمہ بلند ہو، اس کے دین کی مدد ہو۔ اس کے دشمن مغلوب اور دوست غالب ہوں ، نیز جہاد کی مشروعیت میں اللہ تعالیٰ کےبندوں کا امتحان اور ان کی آزمائش بھی مطلوب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "ذَٰلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللّٰهُ لَانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ ۗ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ ﴿٤﴾ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ ﴿٥﴾ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ" "(حکم)یہی ہے اور اگر اللہ چاہتا( توخود ہی) ان سے بدلہ لے لینا لیکن ( اسی نے تمہیں حکم دیا ہے) تاکہ وہ تمہیں ایک دوسرے سے آزمائے ، اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل( شہید) کیے گئے تو اللہ ان کے اعمال ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔وہ جلد ان کی رہنمائی کرے گا اور ان کےحال کی اصلاح کرے گا۔ اور وہ انہیں ( اس) جنت میں داخل کرےگاجس کی ان کوخوب پہچان کروا چکاہے ۔"[1] دین اسلام میں جہاد فی سبیل اللہ کی بہت بڑی اہمیت ہے۔ جہاد اسلام کی چوٹی اور اس کی کوہان ہے اور وہ دین اسلام میں سب سے افضل اور اعلیٰ عبادت ہے حتی کہ بعض علماء نے تو اسے دین اسلام کا چھٹا رکن قراردیا ہے۔ جہاد فی سبیل اللہ کی مشروعیت کتاب اللہ، سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ" "تم پر جہاد (وقتال) فرض کر دیا گیا۔"[2] رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود جہاد فی سبیل اللہ میں حصہ لیا اور اس کا حکم دیا ہے۔ ارشاد نبوی ہے: "مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُحَدِّثْ بِهِ نَفْسَهُ مَاتَ عَلَى شُعْبَةٍ مِنْ نِفَاقٍ" "جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ اس نے نہ جہاد کیا اور نہ اس کے دل میں جہاد کرنے کا خیال آیا تو وہ نفاق کی ایک شاخ پر مرا ہے۔"[3] جہاد کے لغوی معنی"جدو جہد کرنا"ہے۔ دین اسلام کی اصطلاح میں اس کے معنی "ایسی کوشش ومحنت جس سے اللہ تعالیٰ کا کلمہ و دین بلند ہو "حتی کہ اس کے دشمنوں، یعنی کفارسے اس وقت تک خوب قتال ہو کہ ان کا فتنہ و زور ختم [1] ۔محمد47۔6۔4۔ [2] ۔البقرۃ:2/216۔ [3] ۔صحیح مسلم الامارۃ باب ذم من مات ولم یغز ولم یحدث نفسہ بالغزو ،حدیث:1910۔