کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 376
صدقہ کرنے سے افضل ہے کیونکہ جانور ذبح کرنے میں اللہ تعالیٰ کے تقرب کا حصول ہے، فقراء پر صدقہ ہے اور نومولود بچے کا فدیہ ہے۔ لڑکے کے عقیقے میں دو بکریاں ذبح کی جائیں جو عمر و شکل میں دونوں ایک جیسی ہوں، لڑکی کے عقیقے میں ایک بکری ذبح کی جائے۔ سیدہ اُم کرزکعبیہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا: "عنِ الغُلامِ شَاتَان مُكافِئتانِ، وعنِ الْجارِيةِ شاةٌ " "لڑکے کی طرف سے عقیقے میں دو بکریاں ذبح کی جائیں جو دونوں ایک جیسی ہوں لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے۔ [1] لڑکے اور لڑکی کے عقیقے کی مقدار میں جو فرق ہے اس میں حکمت یہ ہے کہ بہت سے احکام شرعیہ میں لڑکی لڑکے سے نصف درجہ اور حیثیت رکھتی ہے ، نیز لڑکا والد کے لیے ایک کامل نعمت ہے اور اس سے والد کو خوشی و مسرت زیادہ حاصل ہوتی ہے، اسی لیے اس کا شکر بھی زیادہ ادا کرنا چاہیے۔ عقیقے کے لیے افضل اور مسنون وقت بچے کی ولادت کا ساتواں دن ہے، البتہ اگر ساتویں دن سے پہلے یا بعد میں بھی عقیقہ ہوا تو بھی جائز ہے۔ ساتویں روز ہی بچے کا نام رکھنا افضل ہے، چنانچہ سنن وغیرہ میں روایت ہے: "تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُسَمَّى " "ساتویں روز بچے کا عقیقہ کیا جائے اور اس کا نام رکھا جائے۔"[2] اگر بچے کی ولادت کے دن ہی اس کا نام رکھ دیا جائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں بلکہ بعض حضرات کے نزدیک ایسا کرنا بہتر ہے۔ نام اچھا رکھنا چاہیے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "إِنَّكُمْ تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ فَأَحْسِنُوا أَسْمَاءَكُمْ " "تم( قیامت کے روز) اپنے اور اپنے باپ کے نام کے ساتھ پکارے اور بلائے جاؤ گے، لہٰذا اپنے نام اچھے رکھو۔"[3] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اچھا نام پسند کرتے تھے اور جس نام میں غیر اللہ کی عبدیت ہوتی اسے حرام قراردیتے تھےمثلاً: [1] ۔سنن ابی داود الضحایا باب فی العقیقۃ حدیث 2836۔وجامع الترمذی الاضاحی باب الاذان فی اذن المولود حدیث 1516۔وسنن ابن ماجہ الذبائح باب العقیقۃ حدیث 3162 واللفظ لہ۔ [2] ۔وجامع الترمذی الاضاحی باب من العقیقہ حدیث1522۔ [3] ۔ضعیف سنن ابی داؤد الادب باب فی تغییر الاسماء حدیث 4946وسلسلۃ الاحادیث الضعیفہ حدیث 5460۔