کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 371
"أُمِرَ النَّاسُ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِمْ بِالْبَيْتِ، إلاَّ أَنَّهُ خُفِّفَ عَن الْحَائِضِ" "اپنے وطن لوٹنے سے پہلے مکہ مکرمہ میں آخری وقت بیت اللہ کے پاس (بصورت طواف)گزارنا چاہیے، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حائضہ کو طواف وداع میں رخصت دی ہے۔"[1] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: "أن النبي صلي اللّٰهُ عليه وسلم رخص للحائض أن تصدر قبل أن تطوف بالبيت إذا كانت قد طافت في الإفاضة... " "آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حائضہ عورت کو مکہ سے نکلنے سے پہلے طواف ودع کرنے میں رخصت دی بشرطیکہ وہ طواف افاضہ کر چکی ہو۔"[2] سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے، انھوں نے کہا: "حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ بَعْدَمَا أَفَاضَتْ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَذَكَرَتْ حَيْضَتَهَا لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحَابِسَتُنَا هِيَ؟ " قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ، إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ، وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ حَاضَتْ بَعْدَ الْإِفَاضَةِ، قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلْتَنْفِرْ " "سیدہ صفیہ بنت حُیی رضی اللہ عنہا طواف افاضہ کے بعد حائضہ ہو گئیں ۔ میں (عائشہ رضی اللہ عنہا ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:وہ تو ہمیں روکے رکھے گی۔میں نے کہا:اے اللہ کے رسول ! اس نے جب طواف افاضہ کر لیا تھا تب اس کا حیض شروع ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو وہ چلے اور مکہ سے نکلے۔"[3] قربانی کے احکام قربانی کی مشروعیت پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"خالق کے لیے قربانی اس [1] ۔صحیح البخاری الحج باب طواف الوداع حدیث 1755۔وصحیح مسلم الحج باب وجوب طواف الوداع و سقوطہ عن الحائض حدیث1328۔ [2] ۔مسند احمد 1/370۔ [3] ۔صحیح البخاری باب الادلاج من المحصب حدیث:1771 وصحیح مسلم الحج باب وجوب طواف الوداع و سقوطہ عن الحائض ،حدیث(382)1211واللفظ لہ