کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 370
اپنی طرف سے کرے، پھر دوسرے شخص کی طرف سے رمی کرنے کے لیے دوبارہ پہلے جمرے کے پاس جائے کیونکہ اس میں بھیڑ کی وجہ سے نہایت مشکل اور مشقت ہے۔ واللہ اعلم۔ بارہ ذوالحجہ کو تینوں جمرات کی رمی کر کے اگر کوئی جلد مکہ لوٹنا چاہے تو غروب آفتاب سے پہلے پہلے نکل جائے اور اگر کوئی تاخیر کرنا چاہیے تو تیرہ ذوالحجہ کی رات وہاں گزارے اور زوال آفتاب کے بعد تینوں جمروں کو کنکریاں مار کر منی سے مکہ مکرمہ واپس آجائے اور یہ افضل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "فَمَن تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ لِمَنِ اتَّقَىٰ " "پھر جس نے دودنوں میں( منی سے مکے کی طرف واپسی میں) جلدی کی تو اس پر کوئی گناہ نہیں جو (ایک دن کے لیے) پیچھے رہ جائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ وہ پر ہیزگاری اختیار کرے۔"[1] اگر بارہ ذوالحجہ کو منی سے نکلنے سے پہلے سورج غروب ہو گیا تو اس پر لازم ہے کہ وہ تیرا ذوالحجہ کی رات بھی وہیں گزارے اور اگلے روز زوال کے بعد رمی کر کے واپس لوٹے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں(يَوْمَيْنِ) کہا ہےتو یوم دن کوکہتے ہیں۔ اگر رات ہو جائے تو وہ (يَوْمَيْنِ) دودن میں جلدی کرنے والا تو نہ ہوا۔ اگر کسی عورت کو حالت احرام باندھا، پھر اسے حیض یا نفاس خون آگیا ،پھر اس نے احرام اختیار کر لی یا اس نے طہر کی حالت میں احرام باندھا ،پھر اسے حیض یا نفاس آگیا تو وہ حالت احرام ہی میں رہے اور وہی کچھ کرے جو دوسرے حجاج کرام کریں گے یعنی عرفہ میں وقوف مزدلفہ میں شب بسری جمرات کی رمی اور منی ٰ میں قیام وغیرہ البتہ وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی وسعی تب تک نہ کرے جب تک حیض و نفاس سے پاک نہ ہو جائے۔ اگر اس نے طہر کی حالت میں طواف کر لیا پھر اسے حیض آگیا تو وہ صفاو مروہ کی سعی کرے۔سعی کے لیے حیض یا نفاس مانع نہیں ہے کیونکہ سعی کے لیے طہارت کی شرط نہیں۔ جب حاجی مکہ مکرمہ میں تمام امور مکمل کر لے حتی کہ اپنے شہر یا وطن کی طرف پلٹنے کی مکمل تیاری کر لے تو اس وقت تک مکہ سے نہ نکلے جب تک بیت اللہ کا (سات چکر لگا کر) طواف نہ کر لے۔ مکہ مکرمہ میں حاجی اپنے آخری لمحات بھی بیت اللہ کے پاس بصورت طواف گزارے، یہ طواف "طواف وداع" ہے۔ حائضہ عورت پر طواف وداع نہیں، وہ طواف وداع کیے بغیر ہی مکہ مکرمہ سے روانہ ہو جائے جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] ۔البقرۃ:2/203۔