کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 368
(29)۔صفا ومروہ کی سعی کی درستی کے لیے درج ذیل شرائط ہیں: نیت کرنا،صفا ومروہ کے درمیان سات چکر لگانا اور اس سے پہلے بیت اللہ کا طواف کرنا۔ ایام تشریق اور الوداعی طواف کے احکام عید الاضحیٰ کے روز طواف افاضہ کرنے کے بعد واپس منی میں پہنچ جائیں منی میں رات گزارتا واجب ہے۔سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے:"آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی حاجی کو مکہ میں رات گزارنے کی اجازت نہیں دی تھی ،البتہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو اس وجہ سے اجازت دی تھی کہ انھوں نے حجاج کرام کو پانی پلانا تھا۔"[1] اگر حاجی کو جلدی نہ ہو تو وہ منیٰ میں تین راتیں گزارے ۔ ذوالحجہ کی گیارہ اور بارہ تاریخ کی دوراتیں منیٰ میں گزارنا ضروری ہیں۔ منیٰ میں ہر نماز اپنے اپنے وقت پر قصر کر کے ادا کریں۔ ایام تشریق زوال کے بعد ہر روز تینوں جمرات کی رمی کریں ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: "رمى رسولُ اللّٰهِ صلَّى اللّٰهُ عليه وسلَّم الجمرةَ يومَ النَّحرِ ضُحًى، وأمَّا بعدُ فإذا زالَتِ الشَّمسُ" "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذوالحجہ کو چاشت کے وقت رمی کی ،باقی دنوں میں زوال آفتاب کے بعد رمی کی۔"[2] سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا کہنا ہے:"ہم رمی کے وقت کا انتظار کرتے، جب زوال آفتاب ہوتا تب ہم جمرات کی رمی کرتے۔"[3]نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ "لتأخذوا مناسككم" "(مجھ سے) حج کے احکام سیکھو۔"[4] ایام تشریق میں رمی کا وقت آفتاب کے ڈھل جانے سے شروع ہوتا ہے۔ اس سے پہلے رمی جائز نہیں۔ جس [1] ۔صحیح البخاری الحج باب سقابۃ الحاج حدیث 1634۔وسنن ابن ماجہ المناسک باب البیتوتۃ بمکہ لیالی منی حدیث 3066۔ [2] ۔صحیح البخاری الحج باب رمی الجمار قبل حدیث1746۔ معلقاً وصحیح مسلم الحج باب بیان وقت استحباب الرمی بعد حدیث1299۔ [3] ۔صحیح البخاری الحج باب رمی الجمار حدیث1746۔ [4] ۔صحیح مسلم الحج باب استحباب رمی جمرہ العقبقہ یوم النحر راکبا، حدیث 1297۔