کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 359
"جس نے رات کے کسی حصے میں مزدلفہ میں صبح کی نماز سے پہلے پہلے وقوف کرلیا اس نے حج پالیا۔"[1] (12)۔وقوف عرفہ حج کے ارکان میں سے ایک رکن ہے بلکہ سب سے بڑا رکن ہے۔ارشاد نبوی ہے: "الحج عرفة " "حج عرفات میں ٹھہرنے کانام ہے۔"[2] مقام وقوف وہ سارا میدان عرفہ ہے جس کی حد بندی کردی گئی ہے ،چنانچہ جو اس سے باہررہا اس کا حج نہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان اعمال واقوال کی توفیق دے جو اسے پسند ہوں۔ مزدلفہ کی طرف روانگی اور وہاں رات گزارنا منیٰ کی طرف روانگی اورعید کے دن کے کام حجاج کرام غروب آفتاب کے بعد عرفہ سے مزدلفہ کی طرف سکون ووقار کے ساتھ روانہ ہوجائیں۔سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: "فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى غَرَبَت الشَّمْسُ وَذَهَبَتِ الصُّفْرَةُ قَلِيلاً حتَى غَابَ الْقُرْصُ وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ خَلْفَهُ ودَفَعَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآله وَسَلَّمَ وَقَدْ شَنَقَ لِلْقَصْوَاءِ الزِّمَامَ حَتَّى إِنَّ رَأْسَهَا لَيُصِيبُ مَوْرِكَ رَحْلِهِ وَيَقُولُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى:«أَيُّهَا النَّاسُ السَّكِينَةَ السَّكِينَةَ" "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ میں وقوف کیا حتی کہ آفتاب غروب ہوگیا اور تھوڑی سی زردی چلی گئی،پھرسیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے سواری پر سوار کیا اور مزدلفہ کی طرف چل پڑے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی قصواء کی لگام اس قدر کھینچی ہوئی تھی کہ اس کا سرکجاوے کے ساتھ لگ رہاتھا اور دائیں ہاتھ کے ساتھ اشارہ کرکے فرمارہے تھے:لوگو!اطمینان کے ساتھ چلو،اطمینان کے ساتھ چلو۔"[3] اس روایت کی روشنی میں حجاج کرام کو چاہیے کہ سکون ووقار کے ساتھ اور ہر ایک سے اچھا برتاؤ کرتے ہوئے میدان عرفات سے مزدلفہ کی جانب چلیں۔چلتے وقت اپنے بھائیوں پر کوئی تنگی ومشکل نہ ڈالیں،رش اور بھیڑ پیدا نہ [1] ۔سنن النسائی المناسک باب فرض الوقوف بعرفۃ حدیث 3019 ومسند احمد 4/304 واللفظ لہ۔ [2] ۔سنن النسائی المناسک باب الوقوف بعرفۃ حدیث 3019 ومسند احمد 4/309۔ [3] ۔صحیح مسلم الحج باب حجۃ النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم حدیث 1218۔