کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 353
"اے ایمان والو!(وحشی) شکار کو قتل مت کرو۔ جب تم حالت احرام میں ہو۔"[1] نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا " "اور خشکی کا شکار پکڑنا تمہارے لیے حرام کیا گیا ہے جب تک تم حالت احرام میں ہو۔"[2] محرم کے لیے شکار کرنا، اس میں تعاون کرنا یا اسے ذبح کرنا منع ہے ۔ اسی طرح اپنے ہی شکار کیے ہوئے سے کھانا یا جو جانور اس کے لیے شکار کیا گیا ہو اس کا کھانا حرام ہے کیونکہ یہ اس کے لیے مردار کی طرح ہے۔ سمندر دریا کا شکار محرم پر حرام نہیں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ " "تمہارے لیے دریا (اور سمندر) کا شکار پکڑنا اور اس کا کھانا حلال ہے۔"[3] اسی طرح گھریلو جانور:مرغی ،بکری،گائے، وغیرہ ذبح کرنا بھی حرام نہیں کیونکہ یہ شکار کرنے کے جانور نہیں ۔ اور جن جانوروں کا گوشت کھانا حرام ہے اور وہ لوگوں کو نقصان پہنچاسکتے ہیں، انھیں بھی قتل کرنا حرام نہیں۔ مثلاً:شیر، چیتا،وغیرہ ۔اسی طرح اپنے مال و جان کی حفاظت کے لیے حملہ آور جانور کو قتل کرنا جائز ہے۔ اگر کوئی محرم حالت احرام میں ممنوعات میں سے کسی چیز کو کرنے میں مجبور ہو تو وہ کام کر لے لیکن فدیہ ادا کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِّن رَّأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ" "پھر تم میں سے جو بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو(جس کی وجہ سے سر منڈالے)تو اس پر فدیہ ہے، خواہ روزے رکھ لے، خواہ صدقہ دے دے، خواہ قربانی کر لے۔"[4] 7۔نکاح کرنا:محرم نہ خود کسی عورت سے نکاح کرے اور نہ ولی اور وکیل بن کر کسی کا نکاح کرے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: "لَا يَنْكِحُ اَلْمُحْرِمُ, وَلَا يُنْكِحُ" "محرم نہ خود نکاح کرے اور نہ کسی دوسرے کا نکاح کرائے۔"[5] 8۔جماع کرنا: محرم کے لیے حالت احرام میں اپنی بیوی سے جماع کرنا حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ " [1] ۔المائدہ:5/96۔ [2] ۔المائدہ:5/96۔ [3] ۔المائدہ:5/96۔ [4] ۔البقرۃ:2/196۔ [5] ۔صحیح مسلم، النکاح، باب تحریم نکاح المحرم وکراھۃ خطبتہ، حدیث 1409۔