کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 35
قضائے حاجت کے وقت گفتگو نہ کرے۔ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قسم کی حرکت سے ناراض ہوتا ہے۔[1]اس دوران میں قرآن مجید کی تلاوت کرنا بھی حرام اور منع ہے۔ جب قضائے حاجت سے فارغ ہو تو پانی یا مٹی کے ڈھیلوں کے استعمال سے خوب طہارت و نظافت حاصل کرے۔ اگر کوئی شخص پانی اور مٹی دونوں استعمال کر لے تو یہ افضل ہے وگرنہ کسی ایک پر اکتفا بھی جائز اور کافی ہے۔ استنجاء کے لیے ٹشو پیپر یا کپڑا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے،بشرطیکہ ان سے جسم اچھی طرح صاف اور خشک ہو جائے، ان شیاء کو کم ازکم تین مرتبہ استعمال کیا جائے، البتہ ضرورت محسوس ہو تو تین سے زائد مرتبہ استعمال کرنا بھی درست ہے۔ استنجا کے لیے ہڈی ،جانورکی لید اور گوبر کو ہر گز استعمال میں نہ لایا جائے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منع کیا ہے۔"[2] اعضائے بدن پر نجاست کے ظاہری اثرات کو اچھی طرح ختم کیا جائے یہاں تک کہ مقام نجاست خوب صاف اور خشک ہو جائے۔ نجاست کے باقی رہنے کی صورت میں اندیشہ ہے کہ وہ پھیل کر جسم یا کپڑے کے پاک حصے کو پلید کردے گی۔ بعض فقہائے کرام کا کہنا ہے کہ وضو سے پہلے (بہر صورت )استنجا کرنا صحت وضو کے لیے شرط ہے اگر پہلے وضو کرے گا، پھر استنجا کرے گا تو اس کا وضو باقی نہیں رہے گا کیونکہ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کی متفق علیہ روایت میں ہے: "يغسل ذكره، ويتوضأ""وہ اپنی شرم گاہ دھوئے، پھر وضو کرے۔"[3] امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے کہاہے:"ایک مسلمان کے لیے بہتر صورت یہ ہے کہ وہ وضو سے پہلے استنجا کر لے تاکہ وہ دائرہ اختلاف سے نکل جائے اور نقص طہارت کا اندیشہ نہ رہے۔" میرے مسلمان بھائی! پیشاب کی چھینٹوں سے خود کو اور اپنے کپڑوں کو بچائیے کیونکہ اس بارے میں بے احتیاطی عذاب قبر کا باعث بن سکتی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے: "اِسْتَنْزِهُوا مِنْ الْبَوْلِ، فَإِنَّ عَامَّةَ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنْهُ" [1] ۔سنن ابی داؤد الطہارۃ باب کراھیۃ الکلام عندالخلاء حدیث 15۔وسنن ابن ماجہ الطہارۃ وسننھا باب النھی عن الاجتماع علی الخلاء والحدیث عندہ، حدیث 342ومسند احمد 3/36۔ [2] ۔صحیح البخاری الوضو باب الاستنجاء بالجحارۃ، حدیث156۔وسنن النسائی الطہارۃ باب النھی الاستطابۃ بالعظم ،حدیث 39۔ [3] ۔صحیح مسلم الحیض،باب المذی، حدیث303۔