کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 348
حج تمتع حج تمتع یہ ہے کہ کوئی حج کے مہینوں میں اولاً عمرے کا احرام باندھے، پھر عمرہ کر کے احرام کھول دے اور اسی سال حج کا احرام باندھے۔ حج افراد حج افراد یہ ہے کہ میقات سے صرف حج کا احرام باندھے اور حج مکمل ہونے تک اسی احرام میں رہے۔ اس میں عمرہ شامل نہیں ہوتا۔ حج قران حج قران یہ ہے کہ حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا احرام باندھا جائے یا اولاً عمرے کا احرام باندھے، پھر طواف عمرہ سے پہلے پہلے حج کی نیت بھی اس میں شامل کر لے۔ الغرض حج قران کرنے والا میقات سے دونوں (حج اور عمرہ ) کی نیت کر کے احرام باندھے یا عمرے کا طواف شروع کرنے سے پہلے ہی حج کی نیت کر لے تو دونوں طرح درست ہے۔ یہ شخص حج اور عمرے (دونوں) کا ایک ہی طواف اور سعی کرے گا۔ متمتع اور قارن دونوں پر قربانی لازم ہے۔ اگر وہ مسجد حرام کے پاس رہنے والے نہ ہوں ۔حج کی ان تینوں قسموں میں سے افضل قسم حج تمتع ہے۔ اس کے حق میں بہت سے دلائل ہیں۔ جب حج کی کسی بھی قسم کی نیت کر کے احرام باندھاجائے تو اس کے بعد تلبیہ کہنا شروع کر دینا چاہیے ۔تلبیہ بلند آواز سے اور زیادہ سے زیادہ پڑھا جائے۔ کلمات تلبیہ یہ ہیں: "لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ، وَالنِّعْمَةَ، لَكَ وَالْمُلْكَ، لاَ شَرِيكَ لَكَ" ممنوعات احرام کا بیان کچھ کام ایسے ہیں جو حالت احرام میں محرم پر حرام ہیں، ان سے اجتناب کرنا نہایت ضروری ہے۔ یہ کام نو(9) ہیں جو درج ذیل ہیں: 1۔ بال مونڈنا یا کاٹنا:محرم کے لیے حرام ہے کہ وہ اپنے بدن کے کسی بھی حصے سے بلا عذر شرعی بال مونڈے یا کاٹے یا اکھاڑے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ "