کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 347
تھا۔"[1] احرام کے کپڑے پہننا محرم مرد کو چاہیے کہ وہ احرام کی چادریں پہننے سے پہلے اپنے جسم پر موجود سلاہوا لباس قمیص، شلوار وغیرہ اتاردے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا دو سفید اور صاف ستھری چادریں، یعنی ازار اور اوپر والی چادر بطور احرام باندھ لے۔ سفید کے علاوہ او رکوئی رنگ دار احرام بھی ہو سکتا ہے جو رنگ عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ انسان زینت سے دوررہے اور خشوع وخضوع اور عاجزی کی حالت میں رہے اور اسے یاد رہے کہ وہ ہر وقت حالت احرام میں ہے تاکہ احرام کے ممنوعات سے بچا رہے ،نیز اسے موت اور لباس کفن یادرہے اور روز قیامت کو اٹھنا اور حشر و نشر وغیرہ ذہن نشین رہے۔ احرام کی نیت کرنے سے پہلے سلا ہوا لباس اتاردینا سنت ہے اور احرام کی نیت کے بعد اتارنا واجب ہے۔ اگر کسی نے سلا ہوا لباس پہنے ہوئے احرام کی نیت کی تو اس کا احرام درست ہے، البتہ نیت کے بعد اسے اتاردے۔ احرام سے قبل کوئی مخصوص نماز نہیں ہے ،البتہ اگر کسی فرض نماز کا وقت ہو تو اسے ادا کر کے احرام کی نیت کر لے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ذوالحلیفہ میں) ظہر کی نماز ادا کر کے سواری پر سوارہوئے تھے اور تلبیہ کہنا شروع کیا تھا۔ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی دو رکعتیں پڑھ کر احرام کی نیت کی تھی ،اس کے لیے کوئی الگ اور خاص نماز ادا نہیں کی تھی۔"[2] یہاں ہم ایک مسئلے کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں اور وہ یہ کہ کئی حجاج کرام یہ سمجھتے ہیں کہ میقات کے مقام پر بنی ہوئی مسجد میں جانا اور اس کے اندر احرام باندھنا ضروری ہے۔ اس خیال کی بنا پر مرد عورتیں مسجد کی طرف بھاگتے ہیں۔ مسجد میں اچھا خاصا رش ہو جاتا ہے۔ کئی لوگ مسجد کے اندر ہی کپڑے اتارتے اور احرام کے کپڑے پہنتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلے کی کوئی دلیل نہیں۔ اصل چیز میقات سے احرام باندھنا ہے۔ زمین کا کوئی مخصوص حصہ نہیں۔ مسجد کے اندر یا باہر جہاں بھی آسانی ہوا حرام کے لیے وہی جگہ درست ہے بلکہ اس موقع پر محفوظ اور الگ جگہ زیادہ مناسب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ مساجد نہ تھیں اور نہ یہ احرام باندھنے کی خاطر بنائی گئی ہیں۔بلکہ یہ مساجد وہاں قرب وجوار میں رہنے والے لوگوں کے لیے ہیں تاکہ وہ نماز ادا کر سکیں۔ حج کرنے والے شخص کو اختیار ہے کہ وہ تمتع ،قران یا افراد میں سے جس قسم کا حج کرنا چاہے کر سکتا ہے۔"[3] [1] ۔مجموع الفتاوی 13/234۔ [2] ۔زاد المعاد:2/107۔ [3] ۔البتہ احادیث میں حج تمتع اور قران کی فضیلت وارد ہوئی ہے، دیکھئے حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم للالبانی رحمۃ اللہ علیہ۔