کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 344
مکے کے درمیان تین مراحل، یعنی تین دن کا پیدل سفر ہے۔ اہل یمن کا میقات یلملم ہے جسے آج کل السعدیہ کہتے ہیں، اس کا اور مکے کا درمیانی فاصلہ دو مرحلے ہے۔ اہل نجد کا میقات قرن المنازل مکے سے دو مرحلے پر ہے جسے آج کل السیل کہتے ہیں۔ اہل عراق اور تمام مشرق سے آنے والوں کے لیے"ذات عرق" میقات ہے جو کہ مکے سے دومرحلے پر واقع ہے۔ یہ مذکورہ مواقیت ان حضرات کے لیے ہیں جو وہاں رہتے ہیں یا ان مواقیت کے قریب رہتے ہیں اور جوان کے علاوہ لوگ ہیں وہ جب ان مواقیت میں سے کسی میقات کے پاس سے گزریں تو وہاں سے احرام باندھیں بشرطیکہ وہ حج یا عمرے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ جو شخص میقات کے اندر رہتا ہے تو وہ حج اور عمرے کے لیے احرام کی نیت اپنی رہائش گاہ سے کرے اور اہل مکہ میں سے جو حج کرنا چاہے تو وہ مکہ مکرمہ ہی سے احرام باندھ نیت کرے۔اسے حج کے احرام کے لیے قریب ترین حِل پر جانے کی ضرورت نہیں البتہ عمرے کے احرام کے لیے کسی قریب ترین حِل پر جائے۔[1] اگر کسی شخص کا ان مواقیت میں سے کسی میقات پر گزرنہ ہو تو جب اسے علم ہو کہ وہ کسی قریب ترین میقات کے برابر پہنچ چکا ہے تو وہاں سے احرام کی نیت کرے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے:" بس یہی دیکھ لو کہ تم اپنے قریب ترین میقات کے برابر آچکے ہو تو احرام کی نیت کر لو۔"[2] حج اور عمرے کے لیے ہوائی جہاز پر جانے والے مسافر کو چاہیے کہ سوار ہونے سے پہلے نہا دھو کر احرام کےکپڑے پہن لے، جب وہ میقات کے برابر آئے تو احرام کی نیت کرے اور جہاز ہی میں تلبیہ کہنا شروع کردے۔ بعض حجا ج کرام ہوائی جہاز سے اتر کر جدہ یا بحرہ کے مقام پر احرام باندھتے ہیں، حالانکہ اس قدر تاخیر کرنا ان کے لیے قطعاً جائز نہیں کیونکہ جدہ یا بحرہ نہ کوئی میقات ہیں اور نہ احرام کا مقام ۔وہاں احرام باندھنا صرف ان کے لیے جائز ہے جو وہاں کے رہنے والے ہیں یا جو وہاں سے حج یا عمرہ کی نیت کر کے چلتے ہیں۔ اور جو ان کے [1] ۔مطالعہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم مکے میں رہنے والے مسافر کے لیے ہے جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو آپ نے حکم دیا تھا اور حدیث "أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ" "اہل مکہ مکہ سے احرام باندھیں ۔"میں حج اور عمرہ دونوں کا حکم مقیم کو ہے۔ وہ مستقل اقامت پذیر ہو یا مسافر ہو لیکن مدت سفر سے زیادہ دن ٹھہرنے کی وجہ سے مقیم ہو، لہٰذا وہ حج اور عمرہ دونوں کا احرام اپنی رہائش گاہ سے باندھ سکتے ہیں چاہے وہ حرم کے اندر ہو۔(صارم) [2] ۔صحیح البخاری، الحج، باب ذات عرق لا ھل العراق، حدیث1531۔