کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 340
اپنا نائب بنا کر روانہ کردے۔ جس شخص پر حج فرض ہو چکا تھا ،پھر وہ حج ادا کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گیا تو اس کے اصل مال، یعنی ترکہ سے اس قدر رقم الگ کر لی جائے جو حج کے لیے کافی ہو۔ اس سے میت کی طرف سے کسی کو حج کے لیے روانہ کیا جائے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا:اے اللہ کے رسول! میری والدہ نے حج کرنے کی نذر مانی تھی تو وہ حج کرنے سے پہلے ہی وفات پاگئی تو کیا میں اس کی طرف سے حج کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نعم !حجي عنها، أرأيت لو كان على أمك دين أكنت قاضيتہ ؟ اقضوا اللّٰه فاللّٰه أحق بالوفاء" "ہاں!اس کی طرف سے حج کرو، پھر فرمایا: اگر تمہاری والدہ پر کسی کا قرض ہوتا تو کیا تو اسے ادا کرتی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا قرض بھی ادا کرو اور اللہ کا قرض ادا کرنا زیادہ لائق ہے۔"[1] اس روایت سے واضح ہوا کہ جو شخص فوت ہو گیا اور اس پر حج کرنا فرض تھا تو اس کی اولاد یا ولی میت کی طرف سے حج کرے یا کسی اور شخص کو میت کی طرف سے حج کے لیے بھیج دے۔ جس طرح ورثاء کی ذمہ داری ہے کہ میت کے اصل مال سے اس کا قرض ادا کریں اسی طرح اللہ تعالیٰ کا قرض بھی میت کے مال سے ادا کرنا ضروری ہے۔ اہل علم کا اجماع ہے کہ اس کا قرض اصل مال ہی سے ادا کیا جائے۔ ایک اور روایت میں ہے:" میری بہن نے حج کی نذر مانی تھی۔"[2] سنن دارقطنی کی ایک روایت میں ہے:"میرے والد فوت ہو گئے ہیں، ان پر حج فرض تھا۔"[3] ان روایات سے واضح ہوا کہ میت کی زندگی میں جو حج فرض ہوا وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض ہو یا خود نذر مان کر فرض کر لیا ہو۔ بہر صورت فرض ایک قرض ہے جو ادا کیا جائے گا، خواہ میت نے اس کو ادا کرنے کی وصیت کی ہو یا نہ کی ہو۔ اگر کسی شخص نے کسی کو اپنا نائب بنا کر حج کے لیے بھیجا تو گویا اس نے خود حج کیا ،حج کرنے والا بمرتبہ وکیل ہے، لہٰذا نائب بھیجنے والے کی طرف سے نیت کرے، اس کی طرف سے تلبیہ کہے، اس کی طرف سے قربانی کی نیت کرے۔ نام نہ بھی لے تو کوئی حرج نہیں۔ اگر اس کا نام و نسب معلوم نہ ہو تو دل میں یہ نیت کر لےکہ میں اس شخص [1] ۔صحیح البخاری، جزاء الصید ،باب الحج والنذور عن المیت، حدیث 1852۔ [2] ۔مسند احمد 1/240۔345۔ [3] ۔(ضعیف) سنن الدارقطنی 2/260حدیث2586۔