کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 337
کرے اور جن کی ادائیگی سے قاصر ہوانھیں اس کا ولی ادا کرے، مثلاً: جمرات کی رمی وغیرہ۔ اگر بچہ چلنے سے عاجز ہو تو اسے سواری پر یا اٹھا کر طواف وسعی کروائی جائے۔ تمام وہ کام جو بچہ سمجھ دار یا غیر سمجھ دار خود کر سکتا ہے وہ خود ہی کرے ،جیسے عرفات میں ٹھہرنا، منیٰ میں راتیں گزارنا وغیرہ ۔ یہ کام اگر دوسرا کوئی کرے گا تو درست نہ ہو گا اور بچے کے لیے ممنوعات وہی ہیں جو کسی بڑے کے لیے ہیں۔ حج کرنے کی استطاعت شرعاً اس شخص کو حاصل ہے جو جسمانی اور مادی اعتبار سے ادا کر سکتا ہو یعنی سواری پرسوار ہو سکتا ہو۔ سفر کی مشکلات برداشت کر سکتا ہو۔ حج کے لیے جانے اور آنے کا خرچہ برداشت کر سکتا ہو، اہل وعیال کا خرچہ بھی پورا کر سکتا ہو، نیز راستہ محفوظ ہو ،جان کا خطرہ نہ ہو۔ اگر کسی کے پاس مال ہے لیکن جسمانی قوت نہیں مثلاً: بہت بوڑھا ہے یا اسے کوئی مرض لاحق ہے جس میں صحت مند ہونے کی امید نہیں ہے تو لازم ہے کہ وہ کسی مسلمان کو اپنا نائب بنا کر حج یا عمرہ کے لیے روانہ کرے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ خثعم قبیلے کی ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:اے اللہ کے رسول!میرے باپ پرحج فرض ہو چکا ہے لیکن وہ اس قدر بوڑھا ہے کہ سواری پر جم کر بیٹھ نہیں سکتا۔ کیا میں اس کی طرف سے حج کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نَعَمْ وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ" "ہاں!(اس کی طرف سےحج کرو) اور یہ حجۃ الوداع کے وقت تھا۔"[1] حج و عمرے میں کسی کی نیابت (حج بدل) کرنے والے کے لیے لازم ہے کہ اس نے پہلے خود اپنا حج کیا ہو کیونکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سنا وہ کہہ رہا تھا : میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: "حَجَجْتَ عن نَفْسِكَ؟ "قال: لا. قال:"حُجَّ عَنْ نَفْسِكَ، ثم حُجَّ عن شُبْرُمَةَ " "کیا تونے خود حج کیا ہے؟اس نے کہا: نہیں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" پہلے خود اپنا حج کر،پھر شبرمہ کی طرف سے حج کر۔"[2] [1] ۔صحیح البخاری الحج باب وجوب الحج وفضلہ حدیث 1513وصحیح مسلم الحج باب الحج عن العاجز لزمانۃ وھرم ونحوھما اوللموت حدیث 1334۔ [2] ۔ سنن ابی داؤد المناسک باب الرجل یحج عن غیرہ حدیث 1811 والسنن الکبری للبیہقی: 4/336۔