کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 336
يَا رَسُولَ اللّٰهِ!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ قُلْتُ : نَعَمْ، لَوَجَبَتْ ، وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ" "اے لوگو!اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کر دیا ہے ،تم حج کرو۔ ایک شخص نے کہا: کیا ہر سال ؟ اے اللہ کے رسول !تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال فرض ہو جاتا اور تم اس کی طاقت نہ رکھتے۔"[1] ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ جب اس پر حج فرض ہو جائے تو حتی الامکان اسے ادا کرنے میں جلدی کرے اگر وہ بلا عذر تاخیر کرے گا تو گناہ گار ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "تَعَجَّلُوا إِلَى الْحَجِّ ، يَعْنِي الْفَرِيضَةَ ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لا يَدْرِي مَا يَعْرِضُ لَهُ " "فرضی حج کے لیے جلدی روانہ ہو جاؤ۔تمھیں نہیں معلوم کب کوئی حادثہ پیش آجائے۔"[2] حج کے فرض ہونے کی پانچ شرائط ہیں:اسلام ،عقل ،بلوغت ، آزادی اور استطاعت۔ جس شخص میں یہ پانچ شرائط موجود ہوں تو اس پر حج فرض ہے جسے حتی الامکان جلد ادا کرنا چاہیے۔ بچے کا حج یا عمرہ نفلی ہو گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔" ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک بچہ پیش کیا اور کہا: کیا اس کا حج ہو جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نَعمْ وَلَكِ أَجْرٌ""ہاں !اور تیرے لیے اجر ہے۔"[3] اہل علم کا اس امر پر اجماع ہے کہ اگر بچے نے بلوغت سے قبل حج کر لیا تو بلوغت کے بعد بشرط استطاعت اس پر حج کرنا فرض ہو گا ،پہلا حج یا عمرہ کافی نہ ہو گا۔ اگر بچہ سمجھ بوجھ نہ رکھتا ہو تو اس کا سر پرست اسے احرام باندھے، اس کی طرف سے نیت کرے، اسے ممنوعات احرام سے بچائے اور اسے اٹھا کر طواف وسعی کرے ،عرفہ مزدلفہ اور منی میں اپنے ساتھ رکھے اور اس کی طرف سے جمرات کی رمی وغیرہ کرے۔ اگر بچہ سمجھ بوجھ رکھتا ہو تو وہ اپنے ولی کی اجازت سے خود نیت کرے اور جس قدر مناسک حج خود ادا کر سکتا ہو ادا [1] ۔صحیح مسلم،الحج ، باب فرض الحج مرۃ فی العمر، حدیث 1337۔ [2] ۔صحیح مسلم ،الحج ،باب فرض الحج مرۃ فی العمر، حدیث 1337۔ومسند احمد 13/314۔واللفظ لہ۔ [3] ۔صحیح مسلم، الحج ،باب صحۃ حج الصبی واجر من حج بہ، حدیث1336۔