کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 333
حج کی فرضیت واہمیت حج ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ" "اللہ نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راہ پاسکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے اور جو کوئی کفر کرے تو اللہ(اس سے بلکہ ) تمام دنیا سے بے پرواہ ہے۔"[1] اس آیت کریمہ میں کلمہ (عَلَى) سے حج کی فرضیت واضح ہوتی ہے، نیز آیت کے آخری کلمات:(وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ)میں تارک حج کو کافر قراردیا گیا ہے۔ اس سے بھی حج کی فرضیت اور اس کی تاکید خوب واضح ہوتی ہے۔ بنابریں جو شخص حج کی فرضیت کا عقیدہ نہیں رکھتا وہ بالا جماع کافر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام کو فرمایا: "وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ" "اور لوگوں میں حج کی منادی کر دے۔"[2] سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "مَنْ مَلَكَ زَادًا وَرَاحِلَةً تُبَلِّغُهُ إِلَى بَيْتِ اللّٰهِ وَلَمْ يَحُجَّ . ... فَلَا عَلَيْهِ أَنْ يَمُوتَ يَهُودِيًّا، أَوْ نَصْرَانِيًّا" "جس شخص کے پاس بیت اللہ تک پہنچانے کے لیے زادراہ اور سواری ہو لیکن اس نے حج نہ کیا تو اس پر کوئی حرج نہیں کہ وہ یہودی یا عیسائی ہو کر مر جائے۔"[3] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: " بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ وَ حَجِّ البيت من استطاع اليه سبيلا " [1] ۔آل عمران 3۔97۔ [2] ۔الحج 22۔27۔ [3] ۔ (ضعیف) جامع الترمذی، الحج ،باب ماجاء من التغلیظ فی ترک الحج، حدیث 812۔