کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 330
"يُرِيدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ" "اللہ کا ارادہ تمہارے ساتھ آسانی کا ہے ،سختی کا نہیں۔"[1] جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کاموں میں سے کسی ایک کے کرنے کا اختیار ملتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم آسان کام اختیار کرتے ۔ بخاری و مسلم کی روایت ہے: "ليس مِن البِرِّ الصومُ في السَّفَر" "سفر میں روزہ رکھنا نیکی کاکام نہیں۔"[2] اگر مسافر یا مریض ،جس کے لیے روزہ رکھنا مشکل ہو،نے روزہ رکھ لیا تو کراہت کے باوجود ان کا روزہ درست ہوگا، البتہ حائضہ اور نفاس والی عورت کے لیے روزہ رکھنا حرام ہے۔ بچے کودودھ پلانے والی اور حاملہ جتنے روزے چھوڑے گی، دوسرے دنوں میں ان کی قضا دے۔ جس نے بچے کی پرورش کے پیش نظر روزے چھوڑ دیے تو وہ روزوں کی قضا کے ساتھ ہر روزے کے بدلےایک مسکین کے کھانے کا کفارہ بھی دے۔[3] علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا فتوی ہے کہ حاملہ اور دودھ پلانے والی دونوں عورتیں اپنے بچوں کے بارے میں اگر کوئی خوف و خطرہ محسوس کریں تو وہ روزے چھوڑدیں اور ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائیں ۔ان کا کھانا کھلانا روزوں کی ادا کے طور پر ہوگا، نیز ان پر چھوٹ جانے والے روزوں کی قضا بھی لازم ہے۔"[4] کسی شخص کو ہلاکت اور موت سے بچانے کی خاطر روزہ توڑا جا سکتا ہے، مثلاً: اگر کوئی پانی میں ڈوب رہا ہے تو اس کو بچانے کی خاطر نہر، دریا وغیرہ میں کود جانا۔ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"روزہ چھوڑنے کے چار اسباب ہیں:(1)سفر (2)مرض (3) حیض(4)روزہ رکھنے سے کسی کی ہلاکت کا خوف ہو جیسے دودھ پلانے والی یا حاملہ عورت یا غرق ہونے والے کو بچانا۔" مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ فرض روزے کی نیت رات ہی کو کرے، مثلاً:رمضان المبارک کا روزہ ،کفارے کا روزہ ،نذر کا روزہ وغیرہ۔ نیت کا طریقہ یہ ہے کہ دل میں ارادہ کرے کہ وہ صبح رمضان کا یا اس کی قضا کا روزہ رکھے گا یا صبح کو نذر یا کفارے کا روزہ رکھے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: [1] ۔البقرۃ:2/185۔ [2] ۔صحیح البخاری الصوم باب قول النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم لمن ظلل علیہ۔۔۔ حدیث 1946وصحیح مسلم الصیام باب جواز الصوم والفطر فی شہر رمضان للمسافر ۔۔۔۔حدیث 1115۔ [3] ۔مؤلف کا یہ مسئلہ بلا دلیل ہے، حاملہ اور مرضعہ دوسرے دنوں میں ان روزوں کی قضا دے۔ اگر اس کی طاقت نہیں رکھتی تو پھر ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے۔ دیکھیے: اللباب، ص:285۔(ع۔و) [4] ۔اعلام الموقعین :3/190۔