کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 329
ادا کریں معذور افراد قضا دیں ،بشرطیکہ دوسرے دنوں میں قضا کی طاقت رکھتے ہوں ۔یہاں ایک تیسری قسم کے افراد بھی ہیں جوادا کی طاقت رکھتے ہیں نہ قضا کی۔ اس قسم میں وہ شخص داخل ہے جو بہت زیادہ بوڑھا ہو یا وہ مریض جس کے تندرست ہونے کی کوئی امید نہ ہو ۔ ان کے حق میں اللہ تعالیٰ نے یہ تخفیف فرمائی ہے کہ وہ ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا " "اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔"[1] نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے: "وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ " "اور اس کی طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں۔"[2] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے:"اس آیت کا حکم اس بوڑھے مرد اور عورت کے لیے ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے۔"[3] لیکن جس نے کسی عارضی عذر کی بنا پر روزہ چھوڑا جیسے مسافر یا وہ مریض جس کے تندرست ہونے کی کوئی امید ہو یا حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت جسے اپنے وجود یا اپنے بچے کی کمزوری کا خوف ہو یا حیض و نفاس والی عورت ہو ان تمام پر روزے کی قضا لازم ہے۔ جس قدر ان کے روزے چھوٹ جائیں گے اسی قدر دوسرے دنوں میں روزے رکھ کر قضا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ " "ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہیے۔"[4] وہ مریض جسے روزہ رکھنے سے تکلیف ہو یا وہ مسافر جس سفر میں اس کے لیے قصر کرنا جائز ہو، ان کا روزہ چھوڑنا مسنون عمل ہے۔اللہ تعالیٰ نے انھی کے حق میں فرمایا ہے: "وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ " "ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہیے۔"[5] یعنی وہ روزہ چھوڑدے اور جتنے روزے چھوڑے ہیں ان کی گنتی کے برابر بعد میں روزے رکھ لے ،جسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [1] ۔البقرۃ:2/286۔ [2] ۔البقرۃ:2/184۔ [3] ۔صحیح البخاری التفسیر، باب قولہ تعالیٰ: (أَيَّامٍ مَّعْدُودَاتٍ)حدیث 4505۔ [4] ۔البقرۃ:2/185۔ [5] ۔البقرۃ:2/185۔