کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 320
سونے تک کھانے پینے اور بیوی سے مباشرت کرنے کی اجازت تھی۔ سونے کے بعد یا عشاء کی نماز ادا کر لینے کے بعد ان میں سے کوئی کام نہیں کیا جا سکتاتھا۔ ظاہر بات ہے یہ پابندی سخت تھی اور اس پر عمل مشکل تھا ،لہٰذا مذکورہ بالا آیت نے یہ پابندی ختم کر دی تب لوگ بہت خوش ہوئے کہ ان کے رب نے انھیں رات کے ہر حصے میں طلوع فجر تک کھانے پینے اور جماع کرنے کی اجازت دے دی ہے۔[1] اس آیت کریمہ سے روزے کے ابتدائی اور آخری وقت کی حد بندی بھی واضح ہو گئی کہ روزے کا ابتدائی وقت صبح صادق کے طلوع ہونے سے ہے جبکہ آفتاب غروب ہونے پر اس کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً " "سحری کھاؤ کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے۔"[2] علاوہ ازیں سحری کھانے کی ترغیب میں بہت سی روایات آئی ہیں اگرچہ پانی کا گھونٹ ہی کیوں نہ ہو، نیز طلوع فجر کے قریب (تاخیر سے)سحری کھانا مستحب ہے۔ اگر کوئی شخص طلوع فجر سے پہلے بیدار ہوا ہو اور وہ جنبی ہو یا اس وقت حائضہ عورت حیض سے پاک ہوئی ہو تو وہ پہلے سحری کھائیں اور روزہ رکھیں اور پھر غسل کریں۔ بعض لوگ رات کااکثر حصہ جاگ کر گزارتے ہیں۔ پھر وہ طلوع فجر سے چند گھنٹے قبل سحری کھا کر سو جاتے ہیں۔یہ لوگ ایسا کر کے درج ذیل غلطیوں کا ارتکاب کرتے ہیں: 1۔ یہ لوگ وقت سے پہلے روزہ رکھ لیتے ہیں۔ 2۔ اکثر نماز فجر باجماعت ادا نہیں کرتے۔ اس طرح فرض نماز باجماعت چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرتے ہیں۔ 3۔ کبھی یہ لوگ نماز فجر اس حد تک مؤخر کر دیتے ہیں کہ طلوع آفتاب کے بعد ادا کرتے ہیں جو گناہ اور جرم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ (4) الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ " "چنانچہ ان نمازیوں کے لیے تباہی (اور ویل نامی جہنم کی جگہ)ہے جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔"[3] فرض روزے کی نیت رات کے وقت کرنا ضروری ہے۔ اگر کسی نے رات کو روزہ رکھنے کی نیت کر لی لیکن وہ [1] ۔تفسیر ابن کثیر، البقرۃ: 2/187۔ [2] ۔صحیح البخاری، الصوم ،باب برکۃ السحور من غیر ایجاب، حدیث1923۔ [3] ۔الماعون 107۔4۔5