کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 317
"فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ ۚ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ۖ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ ۚ " "اس لیے اب تم ان سے ہم بستری کر سکتے ہو اور اللہ نے تمہارے لیے جو لکھ رکھا ہے وہ تلاش کرو اور کھاؤ اور پیو حتی کہ تمہارے لیے صبح کی سفید دھاری کالی دھاری سے واضح (روشن) ہو جائے، پھرتم روزے کو رات تک پورا کرو۔"[1] جب ماہ رمضان کے شروع ہونے کا علم ہو جائے تو اس کے روزوں کی فرضیت شروع ہو جاتی ہے۔ ماہ رمضان المبارک کے شروع ہونے کا علم تین طریقوں سے ہوتا ہے۔ پہلا طریقہ: رمضان المبارک کا چاند دیکھنے سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ" "چنانچہ جو شخص اس مہینے کو پائے تو وہ اس کا روزہ رکھے۔"[2] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ" "رمضان کا چاند دیکھ کر روزے رکھو۔"[3] لہٰذا جس نے رمضان کا چاند دیکھ لیا اس پر روزہ رکھنا فرض ہے۔ دوسرا طریقہ: چاند دیکھنے کی شہادت سے۔جب رمضان المبارک کے چاند دیکھنے کی شہادت یا خبر مل جائے تو ماہ رمضان کا آغاز سمجھے۔ اس کے لیے ایک ایسے شخص کی گواہی کافی ہے جو عاقل ،بالغ اور معتبر ہو۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے: "تَرَاءَى النَّاسُ الْهِلالَ , فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللّٰهِ ، صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنِّي رَأَيْتُهُ ، فَصَامَ وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِيَامِهِ " "لوگوں نے ماہ رمضان کا چاند دیکھنے کی کوشش کی چنانچہ مجھے نظر آگیا تو میں نے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ مجھے چاند نظر آگیا ہے تو آپ نے روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔"[4] تیسرا طریقہ: ماہ شعبان کے تیس دن مکمل ہونے سے، انتیس شعبان کا سورج غروب کے بعد مطلع صاف ہونے کے باوجود چاند نظر نہ آئے توتیس دن مکمل ہونے پر ماہ رمضان کا آغاز ہو جائے گا کیونکہ اسلامی مہینہ تیس دنوں سے [1] ۔البقرۃ:2/187۔ [2] ۔البقرۃ:2/185۔ [3] ۔صحیح البخاری الصوم باب قول النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم: (اذا رایتم الہلال فصو مواواذا رایتموہ فانظرو)، حدیث 1909 [4] ۔سنن ابی داؤد، الصیام ،باب فی شہادۃ الواحد علی رؤیۃ ہلال رمضان ،حدیث2342۔