کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 315
رمضان کے روزوں کی فرضیت اور وقت کا بیان ماہ رمضان المبارک کے روزے رکھنا اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ فرائض میں سے ایک فریضہ ہے جو دین اسلام سے بدیہی اور واضح طور پر معلوم ہوتا ہے۔ رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت کے بارے میں کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دلائل کے علاوہ اجماع بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ﴿١٨٣﴾ أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ ۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۚ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ۖ فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ ۚ وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿١٨٤﴾ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۗ يُرِيدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿١٨٥" "اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پرصوم(روزہ رکھنا) اسی طرح فرض کیا گیا ہے جس طرح ان لوگوں پر فرض کیاگیا تھا جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ (روزے) گنتی کے چند دن ہین، پھر تم میں سے کوئی بیمار ہو یاسفر پر ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کر لے اورجول وگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں(پھر نہ رکھیں) تواس کافدیہ ایک مسکین کوکھاناکھلاناہے، پھر اگر کوئی اپنی خوشی سے ( زیادہ) نیکی کرے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے اورتمہارا روزہ رکھنا تمہارے لیے کہیں بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔ رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیاگیا جو انسانوں کے لیے ہدایت ہے اوراس میں ہدایت کی واضح اور حق کو باطل سے جدا کرنےوالی دلیلیں ہیں، پھر تم میں سے جوشخص اس مہینے کو پائے تو اسے چاہیے کہ اس کے روزے رکھے اور جو شخص بیمار ہو یا سفر پر ہوتو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔ اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اوروہ تمہارے لیے تنگی نہیں چاہتا اورتاکہ تم گنتی پوری کرو اور اس پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر کرو ۔"[1] [1] البقرۃ:2/183۔185۔