کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 31
ہو یا اس نے بھول کر نماز پڑھ لی تو وہ گناہ گار نہ ہوگا ۔ لیکن اس کی نماز درست نہ ہوگی ۔(اس کے لیے طہارت حاصل کر کے دوبارہ نماز ادا کرنی ضروری ہوگی۔) بیت اللہ کا طواف کرنا ناپاک شخص پرحرام ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "الطواف بالبيت صلاة إلا أن اللّٰه أحل لكم فيه الكلام" بیت اللہ کا طواف نماز کی طرح ہے، البتہ اللہ تعالیٰ نے اس میں کلام کی اجازت دی ہے۔"[1] علاوہ ازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کعبہ کے لیے وضو کا اہتمام فرمایا: نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حائضہ عورت کو بیت اللہ کے طواف سے منع فرما دیا ہے۔ یہ تمام نصوص اس مسئلہ کی وضاحت کرتی ہیں کہ ناپاک شخص کے لیے بیت اللہ کا طواف کرنا حرام ہے۔ حدث اکبر کی حالت میں بیت اللہ کے طواف کی حرمت سے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد یوں ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ حَتَّىٰ تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّىٰ تَغْتَسِلُوا ..... " "اے ایمان والو!جب تم نشے میں مست ہوتو نماز کے قریب بھی نہ جاؤ یہاں تک کہ تم اپنی بات کو سمجھنے لگواور جنابت کی حالت میں یہاں تک کہ غسل کر لو۔ ہاں اگر راہ چلتے گزر جانے والے ہو تو اور بات ہے۔"[2] اس آیت کی روسے مسجد میں ٹھہرنے کے لیے داخل ہونا منع ہے تو طواف کرنا بالا اولیٰ منع ہوا۔ یہ وہ کام ہیں جو حدث اکبر یا حدث اصغر دونوں حالتوں میں حرام ہیں ۔ذیل میں ان امور کا ذکر کیا جاتا ہےجنھیں حدث اکبر کی حالت میں کرنا حرام ہے: حدث اکبر کی حالت میں قرآن مجید کی تلاوت کرنا منع ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: "وَلَمْ يَكُنْ يَحْجُبُهُ عَنْ الْقُرْآنِ شَيْءٌ لَيْسَ الْجَنَابَةَ" "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کی تلاوت سے سوائے جنابت کے کوئی چیز نہ روکتی تھی۔"[3] [1] ۔المستدرک للحاکم:1/459۔حدیث 1686۔ترمذی الحج باب ماجاء فی الکلام فی الطواف حدیث 960۔وصحیح ابن حبان بترتیب ابن بلبان 9/143۔144حدیث 36۔38۔ وصحیح ابن خزیمہ 4/222۔حدیث 2739۔ [2] ۔النساء:4/43۔ [3] ۔سنن النسائی الطہارۃ باب حجب الجنب من قراء القرآن حدیث 266۔وسنن ابی داؤد الطہارۃ باب فی الجنب بقراالقرآن حدیث 229۔وسنن ابن ماجہ الطہارۃ وسننھا باب ماجاء فی قراء القرآن علی غیرطہارۃ حدیث 594ومسند احمد 1/84۔