کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 305
پہلی قسم:ضرورت مند مسلمان۔ دوسری قسم :وہ لوگ جنھیں مال دینا اسلام کی تقویت کاباعث ہو۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ اللّٰهِ ۗ وَاللّٰهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ" "زکاۃ تو صرف فقیروں اورمسکینوں اوران اہلکاروں کےلیے ہےجو اس (کی وصولی) پرمقرر ہیں اور ان کے لیے جن کی دلداری مقصود ہےاور گردنیں چھڑانے اور قرضہ داروں (کے قرض اتارنے ) کے لیے اور اللہ کی راہ میں اورمسافروں ( کی مدد) میں ، (یہ ) اللہ کی طرف سے فرض ہے اوراللہ خوب جاننے والا، حکمت والا ہے ۔"[1] اس آیت میں صرف آٹھ مصارف کا تذکرہ ہے جہاں مال زکاۃ خرچ ہونا چاہیے۔ان کے علاوہ کسی اور مصرف میں مال زکاۃ خرچ کرنا جائز نہیں۔اب ان مصارف کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔ 1۔ فقراء:فقراء مساکین سے زیادہ ضرورت مند ہوتے ہیں ،اسی لیے اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے فقراء کا ذکر کیا ہے اور اللہ تعالیٰ "الاهم فالاهم" سے ابتدا کرتا ہے،پھر درجہ بدرجہ دوسروں کا ذکر کیا ہے۔ فقراء وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی معیشت اور گزران کو قائم رکھنے کے لیے کچھ نہیں پاتے،اور ان میں کمانے کی ہمت وطاقت بھی نہیں ہوتی یا انھیں کچھ مال ملتا ہے تو وہ نہایت معمولی ہوتا ہے،لہذا ایسے لوگوں کو اس قدر زکاۃ دی جائے کہ ایک سال تک ان کی بنیادی ضروریات پوری ہوسکیں۔ 2۔ مساکین:مساکین ،فقراء سے بہتر حالت میں ہوتے ہیں۔مسکین وہ شخص ہے جسے مالی آمدن تو ہولیکن ا س سے اس کا گزارا بہت مشکل سے ہو۔ایسےشخص کو مال ِزکاۃ میں سے اس قدر دیاجائے کہ اس کی ایک سال کی ضروریات پوری ہوجائیں۔ 3۔ زکاۃ جمع کرنے والے:خلیفۃ المسلمین کےحکم سے جو لوگ زکاۃ جمع کرتے ہیں،اس کی نگرانی کرتے ہیں اور مستحقین پر تقسیم کرنے کا بندوبست کرتے ہیں،اسی مالِ زکاۃ سے ان لوگوں کی اجرت اور معاوضہ دیا جائے۔اگر امیر بیت المال میں سے ان کی تنخواہ مقرر کردے تو مالِ زکاۃ میں سے مال وصول کرنا ان کے لیے جائز نہیں جیسا کہ آج کل ہورہا ہے کہ حکومت کی جانب سے تنخواہیں بھی مقرر ہیں اور اس کے علاوہ بھی زکاۃ کے مال میں سے کچھ مراعات حاصل کرلیتے ہیں،چنانچہ مال ِزکاۃ میں سے حصہ لینا ان پر حرام ہے کیونکہ انھیں اپنے کام کامعاوضہ دوسری [1] ۔التوبۃ9/60۔