کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 304
مال زکاۃ ادا کرنے کے یہی مذکورہ مقامات ہیں ان کے علاوہ بالاجماع کوئی اورمصرف نہیں ہے۔سیدنا زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: "إِنَّ اللّٰهَ لَمْ يَرْضَ بِحُكْمِ نَبِيٍّ وَلَاغَيْرِهِ فِي الصَّدَقَاتِ حَتَّى حَكَمَ فِيهَا هُوَ فَجَزَّأَهَا ثَمَانِيَةَ أَجْزَاءٍ" "اللہ تعالیٰ نے زکاۃ کے آٹھ مصارف خود ہی بیان کردیے ہیں اور اس بارے میں اپنے نبی یا کسی اور شخص کی مداخلت پسند نہیں فرمائی۔"[1] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سائل کو فرمایا: "فَإِنْ كُنْتَ مِنْ تِلْكَ الْأَجْزَاءِ أَعْطَيْتُكَ حَقَّكَ " "اگر تو(بھی) ان آٹھ مصارف میں سے ہے تو میں تجھے مال ِ زکاۃ دے دیتا ہوں۔"[2] واضح رہے کہ اس فرمان کا موقع محل یہ ہے کہ جب بعض منافقین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صدقات وزکاۃ کی تقسیم کے بارے میں اعتراض کیاتوآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"یہ تقسیم اللہ تعالیٰ نے خود فرمائی ہے اور اسی نے اس کا حکم اور فیصلہ صادر فرمایا ہے اور خود ہی اس کاذمہ لیاہے اور کسی دوسرے کو اس کی تقسیم کا اختیار نہیں دیا۔" شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"اگر آٹھ مصارف موجود ہوں تو زکاۃ ان میں تقسیم کی جائے۔اگر تمام مصارف موجود نہ ہوں تو جتنے موجود ہوں،ان میں تقسیم کردی جائے۔اگر کوئی بھی مصرف موجود نہ ہوتو جہاں موجود ہو وہاں پہنچادی جائے۔"[3] نیز شیخ موصوف فرماتے ہیں:" مالِ زکاۃ اس شخص کو دیناچاہیے جو موحد اورنیک ہوتا کہ وہ اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں خرچ کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زکاۃ اسی لیے فرض کی ہے کہ ایسے ہی لوگوں کے ساتھ تعاون ہو،جو فقراء ومساکین وغیرہ نماز ادا نہیں کرتے انھیں تب تک زکاۃ نہ دی جائے جب تک وہ توبہ کرکے نماز کی ادائیگی کا التزام نہیں کرتے۔" (1)۔اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ ان آٹھ مصارف کے علاوہ کسی اور جگہ پر مال ِزکاۃ اور صدقات خرچ نہ کیا جائے،مثلاً: مساجد ومدارس کی تعمیر کےلیے کیونکہ آیت میں کلمہ انما حصر کافائدہ دیتا ہے،ان آٹھ کے لیے ثابت کرتا ہے اور ان کے سوا سے اس کی نفی کرتا ہے،لہذا مصارف یہی آٹھ ہیں،ان کے علاوہ اور نہیں۔ان مصارف کی دو قسمیں ہیں: [1] ۔سنن ابی داود، الزکاۃ ،باب من یعطی من الصدقۃ وحد الغنی، حدیث 1630۔ [2] ۔سنن ابی داود ،الزکاۃ، باب من یعطیٰ من الصدقۃ وحدالغنی ،حدیث 1630۔ [3] ۔الفتاویٰ الکبریٰ لابن تیمیہ ،الاختیارات العلمیۃ :5/373۔