کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 301
زکاۃ کی ادائیگی کابیان احکام زکاۃ میں سے سب سے اہم حکم زکاۃ کے مصارف شرعیہ کو جانناہے تاکہ زکاۃ اپنے موقع ومحل یامستحق شخص تک پہنچ جائے اور ادا کرنے والااپنی ذمہ داری سے عہدہ برآہوجائے۔ میرے مسلمان بھائی! جب مال میں زکاۃ واجب ہوجائے تو اس کی ادائیگی وجوب کے ساتھ ہی بلاتاخیر کردینی چاہیے۔اللہ تعالیٰ کے فرمان:"وَآتُوا الزَّكَاةَ"میں" وَآتُوا"امر کا صیغہ ہے۔جوفوراً ادائیگی کامتقاضی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "ماخالطت الصدقة مالاً قط إلا أهلكته" "جب زکاۃ مال کے ساتھ مل جاتی ہے(اسے نکال کر ادا نہیں کیا جاتا) تو وہ سارے مال کوتباہ کردیتی ہے۔"[1] اس روایت کی روشنی میں مال کی تباہی سے بچنے کے لیے زکاۃ جلد از جلد الگ کرکے ادا کردینی چاہیے۔علاوہ ازیں مساکین وفقراء کی ضروریات اس امر کی متقاضی ہیں کہ مالِ زکاۃ مستحقین تک فوراً پہنچادیا جائے۔تاخیر میں ان کا نقصان ہے ،نیز ممکن ہے کہ زکاۃ فرض ہونے کے بعد اس کی ادائیگی میں سستی کرنے والا کسی رکاوٹ یا موت کاشکار ہوجائے اور فرض قرض بن جائے۔مال ِزکاۃ کی جلد ادائیگی زکاۃ ادا کرنے والے کے بخل سے پاک اور اس کے ذمے دار ہونے کی علامت ہے اور یہ چیز رب تعالیٰ کی رضاوخوشنودی کے حصول کا سبب ہے۔ بنا بریں جب زکاۃ فرض ہوجائے تو اسےفوراً نکال کرادا کردینا چاہیے،البتہ کسی خاص مصلحت کی بنا پر تاخیر ہو سکتی ہے،مثلاً:زکاۃ ادا کرنے والے کا خیال ہو کہ چند دن کی تاخیر سے مال زکاۃ زیادہ ضرورت مند شخص تک پہنچ جائےگا یا اس وقت اس کے پاس مال موجود نہ ہو وغیرہ۔ (1)۔بچے اور مجنون کے مال میں زکاۃ واجب ہے کیونکہ دلائل میں عموم ہے ،استثنا کی کوئی دلیل نہیں۔ان کے مال کے سرپرست زکاۃ کی ادائیگی کے ذمے دار ہیں کیونکہ یہ حق بوجہ نیابت ان کی طرف منتقل ہوگیا ہے۔ (2)۔زکاۃ نکالتے وقت نیت کرناضروری ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:"إِنَّمَا الأعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ""اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔"[2]اور ادائیگی زکاۃ ایک عمل ہے۔ [1] ۔(ضعیف) المسندللامام الحمیدی 1/115 حدیث 237 وھدایۃ الرواۃ۔2/254 حدیث 1733۔ [2] ۔صحیح البخاری، بدء الوحی باب کیف کان بدءالوحی الی رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ،حدیث:1۔