کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 299
(6)۔صدقۂ فطر کی ادائیگی نماز عید کی ادائیگی سے پہلے پہلے افضل ہے۔اگر کوئی شخص کسی وجہ سے نماز عید سے قبل ادانہ کرسکا تو عید کے بعد بطور قضا اداکردے۔سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت ہے: " مَن أدَّاهَا قَبلَ الصَّلَاةِ فَهِيَ زَكَاةٌ مَقبُولَةٌ، وَمَن أدَّاهَا بَعدَ الصَّلَاةِ فَهِيَ صَدَقَةٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ" "جس نے نماز عید سے پہلے صدقۂ فطر ادا کردیا تو وہ مقبول صدقہ ہوگا اور جس نے نماز کے بعد اداکیا تو یہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہے۔"[1] ایسا شخص مقرروقت میں تاخیر کرنے کی وجہ سے ضرور گناہ گار ہوگا کیونکہ اس میں حکم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت ہوئی ہے۔ (7)۔ایک مسلمان اپنی طرف سے اورجن کے نان ونفقے کاوہ ذمہ دار ہے مثلاً:بیویاں ،اولاد اوراقارب سب کی طرف سے صدقۂ فطر اداکرے کیونکہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: "أن النبي صلى اللّٰهُ عليه وسلم فرض زكاة الفطر على الصغير والكبير، والذكر والأنثى، مِمَّن تمونون" "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر(فطرانہ) ہرچھوٹے،بڑےاور مردوعورت،جن کے تم نان ونفقے کے ذمہ دار ہو،پرفرض کیا ہے۔"[2] (8)۔حمل میں جو بچہ ہے اس کا صدقۂ فطر ادا کرنا مستحب ہے۔سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا یہی عمل تھا۔ (9)۔اگر کسی نے کسی دوسرے شخص کی طرف سے صدقہ فطراداکرنے کی ذمہ داری اٹھالی لیکن اس دوسرے شخص نے ذمے دار کی اجازت کے بغیر اپنا صدقۂ فطر خود ہی ادا کردیا تو وہ کافی ہوگا کیونکہ اصل میں ادا کرنے والے پرفرض تھانہ کہ ذمے دار پر۔اگر کسی شخص نے ایسے شخص کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کیا جس کانفقہ اس کے ذمے نہ تھا تو یہ جائز ہے بشرطیکہ اس کی اجازت ہو،اگر اس کی اجازت کےبغیر ادا کیاگیا تو وہ ادا نہیں ہوگا۔ (10)۔ہم چاہتے ہیں کہ یہاں ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کا وہ کلام نقل کریں جو انھوں نے صدقۂ فطر کی اجناس سے متعلق کیا ہے،چنانچہ موصوف فرماتے ہیں:"حدیث میں پانچ اجناس ،یعنی گندم،جو،کھجور،منقیٰ،اورپنیر کاذکر ہے۔یہ اجناس اہل مدینہ کی عموماً خوراک تھی۔اگر کسی علاقے کی خوراک ان اجناس کے علاوہ ہے تو وہ وہی اشیاء ایک صاع کی [1] ۔سنن ابی داود، الزکاۃ ،باب زکاۃ الفطر، حدیث 1609۔ [2] ۔سنن الدارقطنی 2/140۔141۔حدیث 2058۔2059۔