کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 297
جاننے والا ہے ۔ اورکچھ دیہاتی وہ ہیں جواللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں ، اور وہ کچھ خرچ کرتے ہیں ، اسے اللہ کے ہاں قربت اور رسول کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ آگاہ رہو! یقیناً یہ (خرچ کرنا) ان کےلیے قربت کاذریعہ ہے ، اللہ جلد انہیں اپنی رحمت میں داخل کرے گا، بےشک بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے ۔"[1] اس آیت سے واضح ہواکہ دونوں گروہ زکاۃ دیتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر ایک سے معاملہ اس کی نیت کے حساب سے ہوگا۔پہلے گروہ نے زکاۃ کو تاوان سمجھالیکن ادا اس لیے کی کہ ان(منافقین) کے بارے میں اسلام کو جوحکم(تغلیظ وجہاد) تھا اس سے خود کو بچالیں اور محفوظ کرلیں۔اور وہ منتظر تھے کہ مسلمانوں پر کوئی برا وقت آئے تو ان سے انتقام لیں لیکن انھیں سزایہ ملی کہ انھی پر برے دن آئے اور ثواب سےمحروم ہوئے اور اموال میں نقصان اٹھایا۔دوسرا گروہ اہل ایمان کاتھا جو اللہ تعالیٰ کے قرب اورحصول ثواب کی نیت سے زکاۃ دیتے تھے۔ان کے لیے پورا پورا اجر ہے جو انھوں نے خرچ کیا اس کے بدلے میں انھیں خیروبھلائی ملے گی کیونکہ ان کی نیت اچھی تھی اور مقصد بلند تھا۔اللہ تعالیٰ کافرمان ہے: "أَلَا إِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ ۚ سَيُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِي رَحْمَتِهِ " "یاد رکھو کہ ان کا یہ خرچ کرنا بیشک ان کے لیے موجب قربت ہے، ان کو اللہ تعالیٰ ضرور اپنی رحمت میں داخل کرے گا"[2] اے مسلمان بھائی !اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ اور اس آیت کے معانی پر غوروخوض کرو۔ "وَأَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا ۚ وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللّٰهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا ۚ وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ ۖ إِنَّ اللّٰهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ " "اور اللہ کے قرض حسنہ دو۔ اورتم اپنے آپ کے لیے جونیکی آگے بھیجو گے تواسے اللہ کے ہاں بہتر اور زیادہ اجر والی پاؤ گے ۔ اوراللہ سے استغفار کرو۔ بےشک اللہ غفور و رحیم ہے ۔" [3] صدقۂ فطرکابیان صدقۂ فطر (فطرانہ) کاتعلق ماہ رمضان المبارک سے ہے ۔اسے صدقۂ فطر اس لیے کہاجاتا ہے کہ اسے [1] ۔التوبۃ:9/98۔99۔ [2] ۔التوبۃ:9/99۔ [3] ۔المزمل 20/73۔