کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 289
صورت میں لگایا جائے۔اور زکاۃ خشک انگوروں کی صورت میں لی جائے ،جیسا کہ کھجور کے درخت پر لگی کھجوروں کی زکاۃ تیار اورپکی ہوئی کھجوروں کی صورت میں دی جاتی ہے۔واضح رہے،زبیب یا تمر(منقیٰ اور خشک کھجور) ہی کوکہتے ہیں۔ (6)۔شہد میں زکاۃ تب ہے جب اسے اپنی ملکیت والی جگہ سے حاصل کرلیا گیا ہو یاغیر آباد غیر مملوک جگہ سے،جیسے پہاڑ کی چوٹیاں۔اور نصاب یعنی تیس صاع(60۔62 کلوگرام)سے کم نہ ہوتب اس میں عشر ،یعنی دسواں حصہ زکاۃ ہے۔ (7)۔معدنیات(جو دھاتیں اور جواہر زمین سے حاصل ہوں) میں زکاۃ اناج اور پھلوں کی طرح واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے: "أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْأَرْضِ " "(اےایمان والو!) اپنی پاکیزہ کمائی میں سے خرچ کرو اور ان میں سے بھی جو ہم نے زمین میں سے نکالی ہیں۔"[1] اگر وہ دھات سونا یا چاندی ہے تو اس میں چالیسواں حصہ زکاۃ ہے،بشرطیکہ وہ سونے یا چاندی کے نصاب تک پہنچ جائے۔ اگر زمین سے سرمہ،زرنیخ(ایک قسم کازہر) گندھک،نمک اور پٹرول وغیرہ حاصل ہوتو اگر سونے یا چاندی کے نصاب کی مقدار یا اس سے زیادہ حاصل ہوتو اس کی قیمت میں چالیسواں حصہ زکاۃ ہے۔ (8)۔رکاز،یعنی زمانہ جاہلیت میں کفار کی مدفون اشیاء دستیاب ہوں،وہ کثیر مقدار میں ہوں یا قلیل،اس میں خمس،یعنی پانچواں حصہ زکاۃ ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ" "رکاز میں پانچواں حصہ زکاۃ ہے۔"[2] کفار کے اموال کی پہچان ان کی کسی مخصوص علامت سے ہوگی،مثلاً:اس مال پر ان کے کسی بادشاہ کا نام کندہ ہو یا صلیب وغیرہ کا نقش ہو۔جب اس کا پانچواں حصہ ادا کردیا جائے تو باقی چار حصے اس شخص کے ہوں گے جسے وہ مال ملاتھا۔ اگرسارے یا بعض مدفون مال پر مسلمانوں کے عہد کی علامت ہویا اس مال پر سرے سے کوئی علامت ہی نہ ہوتو اس کا حکم لقطہ کا ہے جیسے راستے میں کسی کا گرا پڑا ہوا مال ملا ہے۔[3]حاصل شدہ کفار کے مدفون مال کی زکاۃ مال فے کی طرح مسلمانوں کی فلاح وبہبود پر صرف کی جائے۔ [1] ۔البقرہ:267۔ [2] ۔صحیح البخاری الزکاۃ باب فی الرکاز الخمس حدیث 1499 وصحیح مسلم الحدود باب جرح العجماء والمعدن والبئر جبار حدیث 1710۔ [3] ۔ایسے مال کا ایک سال تک اعلان عام کیا جائے،اگرمالک آجائے تواسے واپس کردیا جائے ،ورنہ اٹھانے والا اسے اپنے مصرف میں لاسکتا ہے۔(صارم)