کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 288
کٹائی کی اجرت میں حاصل کیا ہویامختلف جگہوں سے جمع کیا یاچنا ہو۔ (3)۔اناج اور پھلوں میں سے نکالی جانے والی زکاۃ کی مقدار مختلف ہے جس کا دارومدار کھیتی کو پانی دینے کے ذرائع کی نوعیت پر ہے۔تفصیل درج ذیل ہے: اگر کھیت کو پانی دینے میں مشقت نہ ہو اور اسے سیلاب کا پانی یاسطح زمین پر بہنے والا بارش وغیرہ کا پانی ملتا ہویا پودے اپنی جڑوں کے ذریعے سے زمین سے پانی حاصل کرلیں تو اس کی پیداوار میں عشر،یعنی دسواں حصہ ہے۔ صحیح بخاری میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: "فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالعُيُونُ أَوْ كَانَ عَثَرِيًّا ،العُشْرُ" "جس کھیتی کو بارش اور چشموں کا پانی ملے یا فصل خود رو ہو (زمین نمی والی ہو) تو اس میں عشرہے۔"[1] سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: "فِيمَا سَقَتْ الْأَنْهَارُ وَالْغَيْمُ الْعُشْرُ" "جس زمین کو دریاؤں یابادلوں کاپانی ملے اس میں عشر ہے۔"[2] اگر کھیت کو کنویں وغیرہ سے مشقت اٹھاکر پانی دیا جائے تو اس میں نصف عشر، یعنی بیسواں حصہ زکاۃ ہے۔سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: "وَمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ" "جس کھیت کو رہٹ وغیرہ سے پانی پلایاجائے اس میں نصف عشرزکاۃ ہے۔"[3] صحیح مسلم میں بھی سیدناجابر رضی اللہ عنہ سےایسی ہی روایت آئی ہے۔ "وَفِيمَا سُقِيَ بِالسَّانِيَةِ نِصْفُ الْعُشْرِ" "اور جس کو رہٹ سے پانی دیاجائے اس میں نصف عشر ہے۔"[4] (4)۔وجوب زکاۃ کاوقت وہ ہے جب پھل پک کر سرخ یا زرد ہوجائے یا دانہ سخت ہوجائے۔اگر کسی شخص نے ایسی کیفیت وحالت ہوجانے کے بعد پھل یا اناج بیچ دیا تو زکاۃ اناج فروخت کرنے والے کےذمہ ہوگی۔خریدار کے ذمے نہ ہوگی۔ (5)۔اناج کی زکاۃ کی ادائیگی کے لیے لازم ہے کہ اسے چھلکے یا بھوسے سے نکال کر صاف کرلیا جائے۔اگر میوہ ہوتو وہ خشک ہوجائے۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انگوروں کی زکاۃ کا اندازہ خشک انگور،یعنی منقیٰ کی [1] ۔صحیح البخاری الزکاۃ باب العشر فیما یسقی من ماء السماء والماء الجاری حدیث 1483۔ [2] ۔صحیح مسلم الزکاۃ باب ما فیہ العشر اونصف العشر حدیث 981۔ [3] ۔صحیح البخاری الزکاۃ باب العشر فیھا یسقی من ماء السماءوالماء الجاری حدیث 1483۔ [4] ۔صحیح مسلم الزکاۃ باب مافیہ العشر اونصف العشر حدیث 981۔