کتاب: فقہی احکام و مسائل(جلد1) - صفحہ 287
"وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ" "اور جو لوگ سونے،چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔[1]"یعنی وہ زکاۃ نہیں دیتے۔ احادیث صحیحہ مشہورہ میں غلہ اور پھلوں کی زکاۃ نکالنے کا حکم اور اس کی مقدار وغیرہ کا بیان موجود ہے،نیز مسلمانوں کااجماع ہے کہ گندم،جو،کھجور،منقیٰ، میں زکاۃ فرض ہے۔علاوہ ازیں چاول،چنا وغیرہ غلے میں بھی زکاۃ ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ مِنْ تَمْرٍ وَلاَ حَبٍّ صَدَقَةٌ " "کھجور اور اناج کے پانچ وسق سے کم میں زکاۃ نہیں۔"[2] نیز فرمایا: "فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالعُيُونُ أَوْ كَانَ عَثَرِيًّا ،العُشْرُ" "جس کھیتی کو بارش اور چشموں کا پانی ملے یاجونمی والی زمین ہو،اس میں "عشر" ہے۔"[3] (1)۔کھجور،منقیٰ وغیرہ ان تمام پھلوں میں زکاۃ فرض ہے جن کا وزن کیاجاتا ہو اور انھیں ذخیرہ کیا جاسکتاہو۔علاوہ ازیں وہ نصاب زکاۃ کی مقدار تک پہنچ جائیں۔سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ ""پانچ وسق سے کم میں زکاۃ نہیں۔"[4] واضح رہے ایک وسق ساٹھ صاع نبوی کاہوتا ہے اور ایک نبوی صاع میں درمیانے آدمی کے چار لپ(دونوں ہاتھوں کے بھرنے کے بقدر) اناج ہوتا ہے(جس کا تحقیقی وزن دو کیلو اور ایک سوگرام ہے۔) (2)۔اناج اور پھلوں میں زکاۃ کے وجوب کی دو شرطیں ہیں: 1۔ نصاب زکاۃ کی مقدار،یعنی پانچ وسق(630 کلو گرام) یا اس سے زیادہ اناج ہو۔ 2۔ وجوب زکاۃ کے وقت اس کی ملکیت میں ہو،وجوب زکاۃ کا وقت وہ ہے جب پھل میں پختگی آجائے یاکھیتی میں دانہ سخت ہوجائے۔اگرمذکورہ وقت کے بعد وہ مالک ہواتو اس میں زکاۃ فرض نہیں،مثلاً:اس نے اناج خریدا ہویا [1] ۔التوبۃ 9/34۔ [2] ۔ صحیح مسلم الزکاۃ باب لیس فیمادون خمسۃ اوسق صدقۃ حدیث 979۔ [3] ۔صحیح البخاری الزکاۃ باب العشر فیما یسقی من ماء السماء والماء الجاری حدیث 1483۔ [4] ۔ صحیح البخاری الزکاۃ باب ما ادی زکاتہ فلیس بکنز حدیث 1405۔ صحیح مسلم الزکاۃ باب لیس فیمادون خمسۃ اوسق صدقۃ حدیث 979۔