کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 283
أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا" "جب خود چرنے والی بکریاں چالیس سے ایک بھی کم ہوں تو ان میں زکاۃ نہیں الا یہ کہ مالک چاہے تو زکاۃ ادا کردے۔"[1] جب ایک سو اکیس بکریاں ہوں تو دو سو تک ان میں دو بکریاں زکاۃ ادا کی جائے جیسا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت میں ہے: "فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ إِلَى مِائَتَيْنِ :شَاتَانِ" "جب ایک سو بیس سے ایک بکری بھی زیادہ ہوجائے تو دو سو تک دو بکریاں زکاۃ ہے۔"[2] جب دو سو ایک بکریاں ہوں تو تین سوتک اس میں تین بکریاں زکاۃ ہے، جیسا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت ہے: "فإِذا زادت على مائتين إلى ثلاثمائة ففيها ثلاث" "جب دو سو ایک(201) سے تین سو(300) تک بکریاں ہوں تو تین بکریاں زکاۃ ہے۔"[3] اس مقدار کے بعد زکاۃ کی شرح ایک ہی رہتی ہے ،یعنی ہر سو بکری میں ایک بکری زکاۃ ہے۔چارسو میں چار،پانچ سو میں پانچ اور چھ سو میں چھ بکریاں زکاۃ ہیں۔یہ ساری تفصیل سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے اس خط میں موجود ہےجس پروہ اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ وفات تک عمل کرتے رہے۔[4] (1)۔زکاۃ میں ایسا بوڑھا،عیب دار جانور لیا یادیا نہ جائے جس کی قربانی جائز نہ ہوالا یہ کہ سارا ریوڑ ہی ایسا ہو۔اسی طرح حاملہ یا اپنے بچے کو دودھ پلانے والا جانور یا وہ جانور جس کے حاملہ ہونے کی اُمید ہو،زکاۃ میں نہ لیا جائے،چنانچہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے : "وَلاَ يُخْرَجُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ، وَلاَ ذَاتُ عَوَارٍ ،وَلاَ تَيْسٌ إِلاَّ مَا شَاءَ الْمُصَّدِّقُ" "زکاۃ میں بوڑھا،عیب والا یاسانڈ جانور وصول نہ کیا جائے الا یہ کہ زکاۃ وصول کرنے والا چاہے۔"[5] [1] ۔صحیح البخاری، الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم ،حدیث 1454۔ [2] ۔صحیح البخاری ،الزکاۃ ،باب زکاۃ الغنم ،حدیث 1454۔ [3] ۔صحیح البخاری، الزکاۃ ،باب زکاۃالغنم ،حدیث 1454۔ [4] ۔صحیح البخاری، الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم، حدیث 1454 وجامع الترمذی، الزکاۃ، باب ماجاء فی زکاۃ الابل والغنم ،حدیث 621 وسنن ابی داود، الزکاۃ، باب زکاۃ السائمۃ، حدیث 1568۔ [5] ۔صحیح البخاری، الزکاۃ ،باب لا یؤخذ فی الصدقۃ ھرمۃ ولا ذات عوار،حدیث 1455۔